نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے انداز پر سورَو داس نے سوال اٹھائے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے معاملے میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تھی۔ اس میں انہوں نے نوجوانوں میں مقبول غیر رسمی زبان اور چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی نئی اسکیم کی معلومات دی تھیں۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے وزیر اعظم کی پوسٹ کو ضرورت سے زیادہ ’جن زیڈ‘ انداز اپنانے کی کوشش قرار دیا اور اسے غیر آرام دہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اہم عہدوں پر فائز لوگوں کو عام اور ذمہ دارانہ زبان میں لکھنا چاہیے۔ پالیسیاں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں، کم از کم تحریر کی سنجیدگی سے سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنی پوسٹ میں کیا لکھا تھا؟
Do you feel India should depend on other countries for processing the critical minerals that power our future?
I certainly don’t!
Lithium, nickel, cobalt…these are essential for EVs, batteries, electronics and defence. Yet, we remain heavily dependent on imports of refined materials.
To address this, the Cabinet has approved a scheme to change this.
Key highlights:
New critical mineral processing plants.
Capital subsidy to boost investment.
Greater domestic value addition.
Stronger supply chains.
The principle is clear…India must have capabilities to build technologies of the future!
https://t.co/deencvjivt
— Narendra Modi (@narendramodi) November 4, 2026
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پوسٹ میں سوال کیا تھا کہ کیا ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کو طاقت فراہم کرنے والی اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرنا چاہیے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’’میں تو بالکل نہیں چاہتا۔‘‘وزیر اعظم نے لیتھیم، نکل اور کوبالٹ جیسی معدنیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)، بیٹری، الیکٹرانکس اور دفاعی شعبے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستان پروسیس شدہ معدنیات کے لیے بڑے پیمانے پر دوسرے ممالک پر منحصر ہے۔ اس انحصار کو کم کرنے کے لیے مرکزی کابینہ نے ایک نئی اسکیم کو منظوری دی ہے۔وزیر اعظم نے اس اسکیم کی اہم خصوصیات میں نئے کریٹیکل منرل پروسیسنگ پلانٹس قائم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کیپٹل سبسڈی دینا، ملک میں ویلیو ایڈیشن بڑھانا اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا شامل بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں خود فروغ دینی ہوں گی۔
سورَو داس نے کہا، اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ عام زبان میں لکھیں
Yo please write tweets like normal people holding high positions. This sounds very wannabe Gen-Z and honestly, quite cringe. Policies may or may not be serious, but at least don’t give up on serious writing!
— Saurav Das (@SauravDassss) November 4, 2026
وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’یو، براہ کرم ایسی پوسٹ لکھیں جیسے اہم عہدوں پر فائز عام سنجیدہ لوگ لکھتے ہیں۔ یہ ضرورت سے زیادہ جن زیڈ بننے کی کوشش جیسا لگتا ہے اور سچ کہوں تو کافی غیر آرام دہ محسوس ہوتا ہے۔ پالیسیاں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں، کم از کم سنجیدہ تحریر کو تو ترک نہ کریں۔‘‘سورَو داس کا یہ ردعمل بنیادی طور پر وزیر اعظم کی پوسٹ کی زبان اور اندازِ بیان پر مرکوز تھا۔ انہوں نے اسکیم کی تکنیکی تفصیلات پر تبصرہ کرنے کے بجائے وزیر اعظم کے ابلاغ کے طریقے پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات کے عوامی پیغامات میں سنجیدگی کے ساتھ سادگی بھی ہونی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



