نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک معاملے پر جاری کیے گئے آدھی رات کے ویڈیو پیغام پر عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے سخت طنز کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ عام طور پر رات آٹھ بجے سامنے آتے ہیں، لیکن اس بار آدھی رات کو ویڈیو پیغام جاری کیا۔سنجے سنگھ نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’ارے سر، آ گئے آپ! آپ کا وقت تو رات آٹھ بجے کا رہتا ہے، لیکن آج آپ 12 بجے ظاہر ہوئے۔ اچھا، آپ کو ’مسودہ‘ بھی مل گیا، میں تو سمجھا تھا آپ کو صرف ڈرافٹ ملا ہوگا، خیر کوئی بات نہیں۔‘‘عام آدمی پارٹی کے رہنما نے وزیر اعظم کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’فاسٹ ٹریک کورٹ کی یہ نوٹنکی مت کیجیے۔ اگر عدالت کے سامنے آپ کی سی بی آئی ثبوت ہی پیش نہیں کرے گی تو عدالت کیا کارروائی کرے گی؟‘‘
سنجے سنگھ نے مزید دعویٰ کیا کہ سی بی آئی نے خود عدالت میں کہا ہے کہ پیپر لیک کیس میں گرفتار سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 کے پیپر لیک معاملے میں بھی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے تمام ملزمان کو فائدہ ملا اور وہ رہا ہو گئے۔دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دی ہے۔ عدالت نے جسٹس انو گروور بلیگا کو اس خصوصی عدالت کا جج مقرر کیا ہے تاکہ ایسے مقدمات کی جلد سماعت یقینی بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کی دیر رات ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پیپر لیک معمولی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے مستقبل سے جڑا حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران حکومت نے متعدد اقدامات کیے، ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کم سے کم وقت میں تقریباً 22 لاکھ امیدواروں کے دوبارہ امتحانات کرائے گئے، جن کے نتائج بھی جاری ہو چکے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے مزید اعلان کیا تھا کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں اور سخت سزاؤں سے متعلق ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جس پر مرکزی کابینہ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کی مؤثر روک تھام کی جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





