نئی دہلی: کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے پیر کو مبینہ NEET-UG 2026 پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے طلبا کو ’’ہمارے بچے‘‘ قرار دیتے ہوئے مرکز پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ میں تعلیمی پالیسی سے متعلق مسائل پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن تعلیمی شعبے سے متعلق اہم مسائل پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن اسی معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم سب بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تعلیمی پالیسی میں مسائل ہیں اور بڑے مسائل ہیں۔ پھر بھی آپ اس پر بحث کرنے کو تیار نہیں ہیں، بلکہ طلبہ پر آنسو گیس برسا رہے ہیں اور ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ وہ ہمارے بچے ہیں۔‘‘
مانسون اجلاس کا آغاز ہنگامے کے ساتھ
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر کو ہنگامہ خیز انداز میں شروع ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں مبینہ NEET-UG 2026 پیپر لیک اور ایودھیا کے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ میں عطیات کی مبینہ خرد برد کے معاملے پر بار بار ہنگامہ ہوا۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن ارکان نے دونوں مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں نعرے بازی اور کارروائی کے بار بار التوا کی صورت حال پیدا ہوئی۔ بالآخر دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اب دونوں ایوان منگل کو صبح 11 بجے دوبارہ اجلاس کریں گے۔ مانسون اجلاس 13 اگست تک جاری رہے گا۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج، پارلیمنٹ کی جانب مارچ
دریں اثنا، مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف قومی دارالحکومت میں احتجاج میں شدت آگئی۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے ارکان مبینہ پیپر لیک کے معاملے میں جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی کے دوران پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب دہلی پولیس کے اہلکار زخمی ہوئے۔ دہلی پولیس کے ایک سب انسپکٹر نے کہا، ’’ہم بیریکیڈ کے قریب کھڑے تھے، انہوں نے (مظاہرین نے) پتھراؤ کیا۔‘‘
CJP بانی کی گرفتاری کے دعوے پر دہلی پولیس کی وضاحت
CJP نے الزام لگایا کہ اس کے بانی ابھجیت ڈِپکے کو احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان سورو داس نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پولیس نے دیپکے کو ’’اٹھا لیا‘‘ اور پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ تاہم دہلی پولیس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بالکل غلط‘‘ قرار دیا۔ پولیس نے کہا کہ ابھجیت ’’اسٹیج پر موجود ہیں‘‘۔ دہلی پولیس کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری پوسٹ میں کہا گیا، ’’سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اس وقت گمراہ کن اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ابھجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ واضح کیا جاتا ہے کہ یہ دعوے بالکل غلط ہیں اور وہ اسٹیج پر موجود ہیں۔‘‘
دیپکے نے سونم وانگچک کی اپیل پر بھوک ہڑتال ختم کی
اس سے قبل دن میں ابھجیت دیپکے نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی اپیل پر اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ سونم وانگچک 21 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد اس وقت صفدرجنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ دہلی پولیس نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی لاٹھی چارج بھی کیا۔ مانسون اجلاس کے آغاز کے پیش نظر نئی دہلی ضلع میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت عائد پابندی کے احکامات بھی نافذ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
