Urdu Conclave 2026

Elections in Israel: اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہوں گے عام انتخابات، عوام کریں گے نیتن یاہو کی سیاسی قسمت کا فیصلہ، 1988 کے بعد پہلی بار مقررہ وقت پر ہوں گے انتخابات

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکمران اتحاد پارلیمنٹ کی تحلیل سے قبل اپنے چند متنازع بل منظور کرانے کے لیے قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ اسرائیلی قوانین کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد عام طور پر نئے قوانین اسی صورت میں منظور کیے جا سکتے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن دونوں اس پر متفق ہوں۔ 

تل ابیب: اسرائیل میں رواں سال ہونے والے عام انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کی قانونی مشیر ساگیت افیک نے اتوار کو اعلان کیا کہ کنیسٹ 17 جولائی کو تحلیل ہو جائے گی، جبکہ ملک میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو منعقد ہوں گے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق یہ انتخابات کرانے کی آخری مقررہ تاریخ ہے، جہاں موجودہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سیاسی قسمت کا فیصلہ عوام کریں گے۔ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ساگیت افیک نے کنیسٹ کی ہاؤس کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی اور اسے قبل از وقت تحلیل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’انتخابات کی تاریخ قانون کے مطابق طے کی گئی ہے اور یہ 27 اکتوبر ہی رہے گی۔‘‘

1988 کے بعد پہلی مرتبہ مقررہ وقت پر انتخابات

اگر انتخابات طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوتے ہیں تو 1988 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب اسرائیل میں عام انتخابات اپنی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی موجودہ حکومت 1973 کے بعد پہلی اسرائیلی حکومت بن جائے گی جو اپنی مکمل پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکمران اتحاد پارلیمنٹ کی تحلیل سے قبل اپنے چند متنازع بل منظور کرانے کے لیے قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ اسرائیلی قوانین کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد عام طور پر نئے قوانین اسی صورت میں منظور کیے جا سکتے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن دونوں اس پر متفق ہوں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی موجودہ 37ویں حکومت 29 دسمبر 2022 کو نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کی حکومت کے خاتمے کے بعد وجود میں آئی تھی۔

نیتن یاہو حکومت کو مسلسل سیاسی چیلنجز

بنیامن نیتن یاہو کی قیادت والی اتحادی حکومت میں لیکوڈ پارٹی کے علاوہ کئی الٹرا آرتھوڈوکس اور دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین اسے اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ سخت گیر حکومتوں میں شمار کرتے ہیں۔ غزہ جنگ کے دوران حماس کے ساتھ یرغمالیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں نے کئی مواقع پر حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے اور حکومت گرانے کی دھمکیاں بھی دیں، تاہم اب تک اتحادی حکومت برقرار ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کو دھچکا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اس وقت انتخابات منعقد ہوں تو نیتن یاہو اور ان کے اتحادی 120 رکنی کنیسٹ میں اکثریت حاصل کرنے سے کافی دور رہ جائیں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد بھی واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔ نیتن یاہو مخالف اتحاد میں عرب اکثریتی جماعتیں اور الٹرا آرتھوڈوکس پارٹیاں شامل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی منظرنامہ اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔