نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد، متھرا کی شاہی عیدگاہ اوروارانسی کی گیان واپی مسجد سے متعلق مقدمات میں ہندواورمسلم فریقوں کو باہمی ثالثی کے ذریعہ تنازعہ حل کرنے کی تجویزدی تھی، لیکن دونوں فریقوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان معاملات میں پیچیدہ قانونی سوالات شامل ہیں، اس لئے ان کا فیصلہ صرف عدالت ہی کرسکتی ہے۔ اس طرح سے دونوں فریق نے ثالثی کی تجویزکو مسترد کردیا۔
آپ کو بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست تک منعقد ہونے والے ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) پروگرام کے لئے ان مقدمات کے فریقوں کوبھی نوٹس بھیجا تھا، تاہم سبھی نے ثالثی کے ذریعہ معاملے کوحل کرنے سے انکارکردیا۔ اس پروگرام کا مقصد سپریم کورٹ میں زیرالتوا ایسے ہزاروں مقدمات کا باہمی رضامندی سے حل نکالنا ہے، جن میں سمجھوتے کی گنجائش موجود ہو۔
گیان واپی مسجد تنازعہ کیا ہے؟
گیان واپی معاملہ مسجد کے احاطے کی مذہبی حیثیت سے متعلق ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ سومناتھ ویاس کے خاندان کے افراد 1993 تک مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کرتے تھے۔ دوسری جانب، مسلم فریق اس دعوے کومسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مسجد پرہمیشہ سے مسلمانوں کا حق رہا ہے۔ ہندوفریق کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ مسجد کی جگہ پرایک قدیم مندرتھا، جس کے ایک حصے کو17ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے دورمیں منہدم کردیا گیا تھا۔ جبکہ مسلم فریق کا موقف ہے کہ مسجد کی تاریخ مختلف ہے اوروقت کے ساتھ اس میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔
متھرا شاہی عید گاہ-شری کرشن جنم بھومی تنازعہ
متھرا میں شاہی عیدگاہ-مسجد اورشری کرشن جنم بھومی کا تنازعہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ ہندوفریق نے سول عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کرشن جنم بھومی کی زمین پر تعمیرکی گئی تھی، اس لئے مسجد کوموجودہ مقام سے ہٹایا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موجودہ عمارت دراصل ایک ہندو مندر تھی۔ یہ عرضی ستمبر2020 میں عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کے تحت مسترد کردی گئی تھی، لیکن بعد میں متھرا ضلع عدالت میں اپیل کے بعد اس فیصلے کوپلٹ دیا گیا۔
سنبھل شاہی جامع مسجد کا معاملہ
سنبھل کی ایک سول عدالت نے 19 نومبر2024 کوایک ایڈووکیٹ کمشنرکوشاہی جامع مسجد کا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے بعد پتھراؤاورگاڑیوں کوآگ لگانے کے واقعات پیش آئے، جن میں مبینہ طورپر4 افراد ہلاک ہوئے۔ 24 نومبرکواس وقت دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا، جب سروے کرنے والی ٹیم شاہی جامع مسجد کا دوسرا سروے کرنے کے لئے چندوسی پہنچی۔ اس دوران مظاہرین اورپولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

