نئی دہلی: کانگریس کے سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سال 2007 میں جامعہ نگرتھانہ جلانے کے معاملے میں آصف محمد خان کے خلاف الزامات طے کردیئے گئے ہیں۔ ان پرفساد بھڑکانے اورجان لیوا حملہ کرنے کے الزام لگے ہیں۔
دہلی کی راوز ایوینیو کورٹ نے 22 اگست 2007 کو جامعہ نگرکے پولیس میں بھیڑ کو جمع کرنے اورپھر بھیڑ کو اکسا کرتھانہ جلانے کے معاملے میں الزام طے کردیا ہے۔ عدالت نے کانگریس کے سابق رکن اسمبلی کے علاوہ 13 دیگر ملزمین کے خلاف الزام طے کئے ہیں۔ 19 سال پرانے معاملے میں عدالت نے ایک طرف ملزمین پرغیرقانونی طریقے سے بھیڑجمع کرنے، فساد کرنے اور جان لیوا حملہ کرنے کا الزام طے کیا تو دوسری طرف 17 دیگرلوگوں کو پوری طرح سے الزام سے بری کرکے کیس سے بری کردیا ہے۔
کیا تھا جامعہ نگر تھانہ کا معاملہ
یہ حادثہ جامعہ نگرعلاقے میں 22 اگست 2007 کو ہوا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کانگریس لیڈرآصف محمد خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ علاقے میں بھیڑجمع کرلی اور انہیں تشدد کرنے کے لئے اکسایا۔ پھرتھوڑی دیر میں ہی بھیڑ بے قابو ہوگئی اوراس نے جامعہ نگرپولیس اسٹیشن پرحملہ کرکے پتھراو کردیا اورپھر تھانے کو جلا دیا۔ آگ زنی کے اس حادثہ کے دوران تین لوگوں کو گولی لگی تھی اور کئی پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد شدید زخمی ہوئے تھے، ساتھ ہی سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
ملزمین کے خلاف سنگین دفعات
اب واقعہ کے تقریباً 19 سال بعد، راؤزایوینیوکورٹ کے مجسٹریٹ نے اس کیس میں سابق ایم ایل اے آصف محمد خان اوردیگرملزمین کے خلاف سنگین دفعات (آئی پی سی سیکشن 148، 149، 186، 307، اور395) جیسے غیر قانونی اجتماع، تشدد پراکسانا اورقتل کی کوشش کے تحت الزامات طے کئے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے آصف خان سمیت 13 افراد پرفرد جرم عائد کیا جبکہ 17 افراد کے خلاف عدم ثبوت کی بنا پربری کردیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
