جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کی حمایت میں طلبا پہنچے جامعہ نگرپولیس اسٹیشن، جامعہ کو بدنام کرنے کا لگایا الزام، سخت کارروائی کا مطالبہ
مظاہرے میں شامل طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جائز تنقید کو روکنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سنگین الزامات کو حقائق کے طور پرپیش کیے جانے سے قبل ان کی سچائی کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقرری، ترقی اور انتظامی فیصلوں جیسے معاملات یونیورسٹی کے مقررہ قواعد اور قانونی طریقۂ کار کے تحت آتے ہیں اور ان کے بارے میں شکایت کے لیے مناسب ادارہ جاتی فورم موجود ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرارپروفیسرمہتاب عالم رضوی کی حمایت میں اتری ٹیم، 6 افراد کے خلاف ایف آئی آرکا مطالبہ، یہاں جانئے پورا معاملہ
وفد نے شکایت کے ساتھ مبینہ قابل اعتراض پوسٹس کے اسکرین شاٹس، مبینہ جعلی سرکلرز، مبینہ غیرمجاز چندہ جمع کرنے سے متعلق ریکارڈ اور نامزد افراد کے خلاف سابقہ تادیبی احکامات سمیت مختلف دستاویزات بھی پیش کیں۔ مشترکہ شکایت میں مبینہ ہتکِ عزت، مجرمانہ سازش، شہرت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے جعل سازی اور دانستہ توہین سے متعلق متعلقہ فوجداری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے تحت ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دہلی میں 19 سال پرانے معاملے میں کانگریس کے سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان سمیت 13 کے خلاف الزامات طے، 17 ملزمین بری
آگ زنی کے اس حادثہ کے دوران 3 افراد کوگولی لگی تھی اورمتعدد پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ ساتھ ہی سرکاری املاک کوبھی شدید نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اب واقعہ کے تقریباً 19 سال بعد، راؤز ایوینیو کورٹ کے مجسٹریٹ نے سابق رکن اسمبلی سمیت آصف محمد خان اور دیگر ملزمین کے خلاف سنگین دفعات میں الزامات طے کئے۔




