Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind: نیٹ 2026 امتحان میں دھاندلی کی مذمت، پروفیسر سلیم انجینئر نے آزادانہ جانچ اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا کیا مطالبہ

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے نیٹ 2026 کو منسوخ کر کے دوبارہ امتحان کرانے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ در اصل حکومت کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ اگرچہ امتحان کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاہم اس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر نے نیٹ یوجی 2026 پیپر لیکس اور امتحان میں ہوئی دھاندلی کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) کو امتحان کی شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رکھنے میں ناکام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے میڈیکل کے شعبے میں ملک کی خدمت کا خواب دیکھنے والے لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم نیٹ یوجی 2026 امتحان کے پپیر لیکس کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس کے باعث پورے امتحان کو منسوخ کرنا پڑا۔ نیٹ ملک کے سب سے بڑے مسابقتی داخلہ امتحانوں میں سے ایک ہے، جس میں ہر سال دو ملین سے زائد طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ ایک ایسے ’گس پیپر‘ کا سامنے آنا جو اصل امتحان کے پیپر سے بڑی مماثلت رکھتا ہو، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی شفافیت اورغیر جانبداری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایسے ’گس پیپرز‘ کی ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے خرید فروخت منظم بدعنوانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح کے پیپر لیکس امتحان کے نظام پرعوام کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور میرٹ کے حوالے سے طلبہ و والدین کے درمیان شدید بے اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ ہم اس ناکامی کے لیے حکومت اور این ٹی اے کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ پیپر لیکس نے نیٹ کے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان

پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے نیٹ 2026 کو منسوخ کر کے دوبارہ امتحان کرانے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ در اصل حکومت کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ اگرچہ امتحان کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاہم اس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ پیپر لیکس معاملے میں شامل افراد کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ ایک مثال قائم ہو سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ٹی اے اور وزارتِ تعلیم کے اعلیٰ عہدے داران کو اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

تحقیقات کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی سچائی سامنے لانے کے لیے فوری، آزادانہ اور ٹائم باؤنڈ جانچ ضرورت ہے۔ ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی فرد یا نیٹ ورک کے ملوث پائے جانے پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ہم امتحان کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے اورآئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ وزارتِ تعلیم کی جانب سے ISRO کےسابق چئیرمین کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں قائم ہونے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کو فوری طور پر نافذ کرے، جس نے داخلہ امتحانات میں خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایک ‘محفوظ اور چھیڑ چھاڑ سے پاک امتحانی نظام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق این ٹی اے کو امتحان کے تمام مراحل میں موجود خامیوں کو دور کرتے ہوئے بدعنوانیوں کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کو نافذ کیا جانا چاہئے تاکہ حساس قسم کے امتحانات محفوظ اور کامیابی کے ساتھ کرائے جا سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read