PM Shri Kendriya Vidyalaya: پی ایم شری کیندریہ ودیالیہ اینڈریوز گنج عالمی تعلیمی قیادت کا بنا گواہ، باوقار بین الاقوامی وفد نے کیا اسکول کا دورہ
بادلۂ خیال کے سیشن میں وفد نے تعلیمی قیادت، جدید تدریسی و تعلیمی طریقوں، نظامِ جانچ میں اصلاحات، جامع تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ وفد نے اسکول کی بہترین تعلیمی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی، جبکہ ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دونوں نائب پرنسپلز نے دیے۔ وفد نے طلبہ کے اعتماد، تجسس اور مؤثر اظہارِ خیال کی بھی بھرپور ستائش کی۔
جماعت اسلامی ہند کے اعلیٰ سطحی وفد کی جنترمنتر احتجاج میں شرکت، سونم وانگچک اور تعلیمی اصلاحات کے لئے احتجاج کر رہے طلبہ سے اظہار یکجہتی
جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہمدردی، انسان دوستی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً ان افراد کی تشویشناک صحت کے پیشِ نظر جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ جماعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے، ان کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے جائز، منصفانہ اور آئینی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
Central Board of Education: ’وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل‘ پر نظرثانی اور وسیع مشاورت ضروری: مرکزی تعلیمی بورڈ
مرکزی تعلیمی بورڈ نے مطالبہ کیا کہ بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی(جے پی سی ) ریاستی حکومتوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آراء اور تجاویز کو سنجیدگی سے زیرغور لائے، تاکہ مجوزہ قانون زیادہ متوازن، قابل عمل اور وسیع تعلیمی قبولیت کا حامل بن سکے۔
Educational Reform: استاد نئی نسل کی تعمیر کرتا ہے، تعلیم میں اصلاحات صرف بی جے پی حکومت کے دور میں ممکن ہوئیں: ڈاکٹردنیش شرما
ڈاکٹر دنیش شرما نے بطور وزیر تعلیم اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں اساتذہ کے تبادلوں اور ترقیوں کا شفاف نظام نافذ کیا گیا، پروفیسر کا عہدہ متعارف کرایا گیا، نقل سے پاک امتحانات کا نظام قائم کیا گیا اور این سی ای آر ٹی کا نصاب بھی نافذ کیا گیا۔
NEET-PG 2026: نیٹ-پی جی کا شیڈول جاری، 30 اگست کو ہوگا امتحان، آن لائن درخواستوں کا آغاز، 21 جولائی آخری تاریخ، 30 ستمبر کو نتیجہ متوقع
این بی ای ایم ایس کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق، نیٹ-پی جی 2026 کا انعقاد 30 اگست 2026 کو ملک بھر کے مختلف امتحانی مراکز پر کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس امتحان کے لیے آن لائن درخواستوں کا عمل یکم جولائی شام 5 بجے سے شروع ہو گیا ہے، جبکہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 21 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
Shaping India’s Destiny: قدیم ’’شاسترارتھ‘‘ روایت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ کر بھارت کا مستقبل تشکیل دے رہی ہے نالندہ یونیورسٹی: وزیر اعظم مودی
وزیراعظم کے مطابق نالندہ یونیورسٹی نے قدیم ہندوستانی علمی روایت اور جدید تعلیم کو یکجا کر کے اس سوال کا مؤثر جواب پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں برس پرانی نالندہ یونیورسٹی اب اپنے نئے روپ میں بھارت کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
NEET-UG Exam: نیٹ-یو جی کا دوبارہ امتحان سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان منعقد، ملک و بیرون ملک لاکھوں امیدوار شریک
امتحان میں 22.79 لاکھ سے زائد امیدوار امتحان میں شریک ہورہے ہیں جس کا انعقاد 551 شہروں کے 5,440 مراکز اور 14 بین الاقوامی مقامات پر کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دوبارہ امتحان گزشتہ پیپر لیک معاملے کے بعد منعقد کیا جا رہا ہے، جس کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کر رہا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی متعدد افراد کو گرفتار بھی کر چکی ہے۔
CBSE Class XII results: طالبات نے پھر سے لہرایا پرچم، سی بی ایس ای نے بارہویں جماعت کے نتائج جاری کیے، مجموعی کامیابی کی شرح 85.20 فیصد
علاقائی کارکردگی میں ترواننت پورم سب سے آگے رہا، جہاں کامیابی کی شرح 95.62 فیصد رہی۔ اس کے بعد چنئی میں 93.84 فیصد اور بنگلورو میں 93.19 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی کے دہلی ویسٹ خطے میں 92.34 فیصد جبکہ دہلی ایسٹ میں 91.73 فیصد کامیابی درج کی گئی۔
NEET UG Cancellation: نیٹ امتحان منسوخ ہونے پر طلبہ میں شدید غصہ، بے ضابطگیوں کو ’’ذہنی اذیت، مایوس کن، غیر منصفانہ اور انتظامی لاپروائی‘‘ قرار دیا
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے مطابق 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی 2026 امتحان میں تقریباً 22.79 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔ یہ امتحان بھارت کے 551 شہروں اور بیرون ملک 14 شہروں میں قائم 5400 سے زائد مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔
Jamaat-e-Islami Hind: نیٹ 2026 امتحان میں دھاندلی کی مذمت، پروفیسر سلیم انجینئر نے آزادانہ جانچ اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا کیا مطالبہ
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے نیٹ 2026 کو منسوخ کر کے دوبارہ امتحان کرانے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ در اصل حکومت کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ اگرچہ امتحان کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاہم اس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔





