نئی دہلی: مرکزی حکومت کی جانب سے نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کیے جانے کے بعد ملک بھر کے طلبہ اور امیدواروں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ طلبہ نے پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کو ’’ذہنی اذیت، مایوس کن، غیر منصفانہ اور انتظامی لاپروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بار بار ایسے واقعات ان کے مستقبل کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومت نے 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کرتے ہوئے معاملے کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کر دی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ مرکزی ایجنسیوں سے موصول معلومات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹوں کے بعد امتحانی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات پیدا ہوئے، جس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔
اب ہر سال ہونے لگا ہے پیپر لیک
نیٹ یو جی 2027 کے امیدوار یووراج سنگھ نے کہا کہ پیپر لیک اب تقریباً سالانہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں بھی اسی طرح کے واقعات سامنے آئے تھے اور اب ایک بار پھر لاکھوں محنتی طلبہ کو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’سوچیے اس طالب علم کے بارے میں جس نے 650 سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہوں اور اسے یقین ہو کہ اس کا سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ یقینی ہے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ خوشی منا رہا ہوگا، لیکن اب دوبارہ امتحان کی خبر نے اسے شدید ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیا ہوگا۔‘‘
طلبہ نے این ٹی اے کے انتظامات پر اٹھائے سوالات
ایک طالبہ امیدوار نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی انتظامی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امتحانی پرچوں کی نقل و حمل کے لیے جی پی ایس سے لیس گاڑیوں کا استعمال کیا جا رہا تھا تو پھر پیپر لیک کیسے ہو گیا؟ انہوں نے کہا کہ طلبہ کئی برسوں کی سخت محنت کے بعد امتحان دیتے ہیں، ایسے میں پیپر لیک کی خبر ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
چھٹی جماعت سے تیاری کرنے والے طلبہ متاثر
ایک اور امیدوار نے کہا کہ نیٹ صرف طلبہ کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بچے چھٹی یا ساتویں جماعت سے اس امتحان کی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور دوبارہ امتحان لینا ان کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان کو مکمل طور پر آن لائن کر دیا جائے تاکہ مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر امتحان آن لائن ہو جائے تو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کا مسئلہ تقریباً ختم ہو سکتا ہے۔
ہمیں دوبارہ سفر اور تیاری کرنی ہوگی
لکھنؤ کے ایک امیدوار نے کہا کہ امتحان منسوخ ہونے کے بعد اب طلبہ کو دوبارہ امتحانی مراکز تک سفر کرنا پڑے گا، جس سے انہیں مزید مالی اور ذہنی پریشانی ہوگی۔ بھونیشور کی ایک طالبہ نے کہا کہ دوبارہ امتحان دینا بہت زیادہ دباؤ پیدا کرتا ہے اور حکومت کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ کوٹا کے کئی امیدواروں نے امتحان منسوخ کیے جانے پر شدید مایوسی ظاہر کی۔ ایک طالبہ نے کہا کہ اس نے 3 مئی کا امتحان دیا تھا اور اب اسے دوبارہ پورا نصاب پڑھنا پڑے گا، جو انتہائی تھکا دینے والا عمل ہے۔ ایک دوسرے امیدوار نے کہا کہ چند افراد کی غلطی کی سزا لاکھوں ایماندار طلبہ کو دینا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال تک دن رات محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ یہ سراسر ناانصافی ہے۔
اگر دوبارہ امتحان ہوا تو کیا گارنٹی ہے؟
کئی امیدواروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر دوبارہ امتحان لیا گیا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پھر سے پیپر لیک نہیں ہوگا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ اس کا امتحان بہت اچھا گیا تھا، لیکن اب دوبارہ امتحان کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ محسوس کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امتحانی نظام کو مزید محفوظ بنایا جائے اور امتحان کو ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کیا جائے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے مطابق 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی 2026 امتحان میں تقریباً 22.79 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔ یہ امتحان بھارت کے 551 شہروں اور بیرون ملک 14 شہروں میں قائم 5400 سے زائد مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔ این ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ دوبارہ امتحان کے لیے نئی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی اور پہلے سے موجود درخواستیں ہی معتبر رہیں گی۔ امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
