نئی دہلی: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدہ (BTA) پر مذاکرات آج سے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستانی وفد 20 سے 22 اپریل کے درمیان امریکہ کا دورہ کرے گا۔ کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے اس ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بی ٹی اے پر بات چیت دوبارہ شروع ہوگی، جو دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ ایک باہمی فائدہ مند تجارتی معاہدے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔
عبوری معاہدے کا فریم ورک پہلے ہی طے
ہندوستان اور امریکہ نے 7 فروری 2026 کو ایک عبوری تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا، جس میں باہمی اور متوازن تجارت پر زور دیا گیا۔ یہ فریم ورک وسیع تر ہند-امریکہ دو طرفہ تجارتی معاہدہ مذاکرات کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی نے 13 فروری 2025 کو کیا تھا۔ اس معاہدے میں مارکیٹ تک رسائی میں توسیع اور سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ٹیرف پالیسی اور عالمی تجارتی ڈھانچے پر اثرات
کامرس سکریٹری کے مطابق امریکہ کی جانب سے بعض ہندوستانی برآمدات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف کو 7 فروری 2026 کو ختم کر دیا گیا تھا۔ مزید برآں، امریکی سپریم کورٹ کے 20 فروری 2026 کے فیصلے کے بعد باہمی ٹیرف بھی ختم ہو چکے ہیں۔ تاہم امریکہ نے ٹریڈ ایکٹ 1974 کے تحت کچھ مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ عالمی سطح پر نئے ٹیرف ڈھانچے کی تشکیل میں مصروف ہے، جس کے بعد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جاری مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور باہمی مفاد پر مبنی معاہدے کی راہ ہموار کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

