نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جمعہ کو لوک سبھا میں آئین (131واں ترمیمی) بل 2026 مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا، جس کے بعد این ڈی اے کے تمام اتحادیوں کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے بل کی مخالفت کے معاملے کو ملک گیر سطح پر اٹھایا جائے گا۔ اس کے تحت ہفتہ کے روز ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے، پریس کانفرنسز اور سوشل میڈیا مہم چلائی جائے گی تاکہ عوام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا جا سکے۔
भारतीय लोकतंत्र के इतिहास में आज का दिन अत्यंत दुर्भाग्यपूर्ण है। संसद के विशेष सत्र के दौरान, एनडीए सरकार द्वारा लोकसभा में 131वां संविधान संशोधन बिल, महिलाओं को एक-तिहाई आरक्षण देने के लिए लाया गया था। कांग्रेस के नेतृत्व वाले इंडी गठबंधन ने आज लोकसभा में इस बिल के विरोध में…
— Rajnath Singh (@rajnathsingh) April 17, 2026
بی جے پی مہیلا مورچہ کی قیادت میں یہ احتجاج ملک کے تمام ضلع ہیڈکوارٹرز پر کیے جائیں گے۔ پارلیمنٹ میں بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیمنٹ نے بھی پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا اور اپوزیشن کے خلاف نعرے بازی کی۔ حکمراں اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ بل خواتین کو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے ایک تاریخی قدم تھا، مگر اپوزیشن نے اسے روک کر خواتین کی سیاسی نمائندگی کے خواب کو نقصان پہنچایا۔ بی جے پی نے اسے ایک کھویا ہوا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات آنے والے انتخابات میں نظر آئیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بی جے پی مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں اس معاملے کو خاص طور پر اٹھائے گی۔ پارٹی اس بات کو اجاگر کرے گی کہ اگر یہ بل پاس ہو جاتا تو 2029 تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کیا جا سکتا تھا اور نشستوں میں اضافہ بھی ممکن ہوتا۔
بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ پونم بین مدام نے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2023 میں یہ طے کیا گیا تھا کہ 2029 کے عام انتخابات تک خواتین ریزرویشن پورے ملک میں نافذ کر دیا جائے گا، لیکن جب حکومت یہ بل لے کر آئی تو راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد نے اس کی سخت مخالفت کی اور اسے پاس نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین اس فیصلے کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں یہ دن نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ بل محض ایک قانون نہیں تھا بلکہ خواتین کو ان کا حق اور عزت دینے کا ایک اہم موقع تھا، جسے اپوزیشن نے ضائع کر دیا۔
आज लोकसभा में संविधान (131वां संशोधन) विधेयक-2026 का पारित नहीं होना कांग्रेस, TMC, DMK, समाजवादी पार्टी और इंडि. गठबंधन की महिला विरोधी मानसिकता को दर्शाता है।
आज का दिन हमारे देश के लोकतंत्र के लिए एक काला अध्याय है। यह केवल एक बिल का गिरना नहीं है, बल्कि करोड़ों बहनों के उस…
— Jagat Prakash Nadda (@JPNadda) April 17, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر خواتین کے حق میں فیصلہ کریں، مگر اپوزیشن نے اپنے محدود سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق ملک کی عوام اس فیصلے کو یاد رکھے گی اور مناسب وقت پر جواب دے گی۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے بھی اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بل کا مسترد ہونا اپوزیشن کی خواتین مخالف ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اسے جمہوریت کے لیے ”سیاہ دن“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک بل کی ناکامی نہیں بلکہ کروڑوں خواتین کی امیدوں کا ٹوٹنا ہے۔ نڈا نے کہا کہ خواتین کی طاقت کو نظر انداز کرنا اپوزیشن کو مہنگا پڑے گا اور آئندہ انتخابات میں عوام اس کا حساب لے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ معاملہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سمیت ہر سطح پر ایک بڑا سیاسی ایشو بنے گا۔
Congress and its allies have shown their true colours – Congress opposes women’s empowerment.
— Ashwini Vaishnaw (@AshwiniVaishnaw) April 17, 2026
ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے بھی کانگریس اور اس کے اتحادیوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے خلاف اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت خواتین کی ترقی اور انہیں سیاسی میدان میں آگے لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل میں کئی خامیاں تھیں اور اسے جلد بازی میں پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حدبندی اور نشستوں میں اضافے جیسے اہم معاملات پر وسیع مشاورت ضروری ہے، جس کے بغیر اس طرح کے فیصلے مناسب نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواتین ریزرویشن بل کا مسترد ہونا بھارتی سیاست میں ایک بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ این ڈی اے کی جانب سے ملک گیر احتجاج کے اعلان کے بعد آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ دونوں فریق اسے اپنے اپنے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

