Urdu Conclave 2026

Who Will Become Bihar Deputy CM: بہار میں پہلی بار بی جے پی کا وزیر اعلیٰ، سمراٹ چودھری کی نئی کابینہ کا خاکہ تیار، جانئے کیا نشانت کمار بنیں گے نائب وزیر اعلیٰ؟

وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے ساتھ ہی سب کی نظریں نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر نشانت کمار کے نام پر قیاس آرائیاں عروج پر ہیں، جو سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے صاحبزادے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے راضی کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

پٹنہ: بہار کی سیاست میں 15 اپریل ایک تاریخی دن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب سمراٹ چودھری وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب ریاست کی باگ ڈور براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی لیڈر کے ہاتھ میں ہوگی، جسے سیاسی مبصرین ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے ساتھ ہی سب کی نظریں نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر نشانت کمار کے نام پر قیاس آرائیاں عروج پر ہیں، جو سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے صاحبزادے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے راضی کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر نشانت کمار اس عہدے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے تو جنتا دل (یو) کے سینئر لیڈروں میں سے کسی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں وجیندر پرساد یادو، وجے چودھری اور شرون کمار جیسے تجربہ کار لیڈران کے نام نمایاں ہیں، جنہیں انتظامی تجربہ حاصل ہے اور پارٹی میں مضبوط مقام رکھتے ہیں۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی کابینہ کی تشکیل کو لے کر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ این ڈی اے کے اندر ہونے والے ابتدائی سمجھوتوں کے مطابق وزراء کی تعداد میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے، تاہم چہروں میں تبدیلی ضرور دیکھی جا سکتی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں وجے سنہا، منگل پانڈے، دلیپ جیسوال، رام کرپال یادو اور شریاسی سنگھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لکھیندر پاسوان اور سنجے سنگھ ٹائیگر کو بھی کابینہ میں شامل کیے جانے کی قیاس آرائیاں ہیں۔

جنتا دل (یو) اس بار اپنی شمولیت کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے اور اسی لیے وہ کابینہ میں نمایاں حصہ لینے کی کوشش میں ہے۔ پارٹی کے ممکنہ وزراء میں وجیندر پرساد یادو، وجے چودھری، اشوک چودھری، لیشی سنگھ اور مدن سہنی جیسے تجربہ کار لیڈروں کے نام شامل ہیں، جو پہلے بھی مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ اتحادی جماعتوں کے کردار پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ چراغ پاسوان کی جماعت سے سنجے پاسوان اور سنجے سنگھ کو وزیر بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہندستانی عوام مورچہ کے لیڈر جیتن رام مانجھی کے بیٹے سنتوش کمار سمن کا کابینہ میں شامل ہونا تقریباً یقینی مانا جا رہا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپیندر کشواہا کی پارٹی سے دیپک پرکاش کشواہا کے نام پر بھی غور جاری ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی حلف برداری تقریب سادہ اور مختصر ہونے کا امکان ہے۔ ابتدائی مرحلے میں صرف وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ ہی حلف لیں گے، جبکہ مکمل کابینہ کی توسیع بعد میں اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے بعد کی جائے گی۔ فی الحال بی جے پی کے پاس سب سے زیادہ وزارتیں رہی ہیں، لیکن امکان ہے کہ آئندہ توسیع میں جنتا دل (یو) کے حصے کی خالی نشستوں کو بھی پُر کیا جائے گا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی نہ صرف بہار بلکہ قومی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں نئی حکومت کس طرح اپنی حکمت عملی ترتیب دیتی ہے اور کیا وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read