بانکورا: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آر جی کر میڈیکل کالج ریپ و قتل کیس کو لے کر آل انڈیا ترنمول کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پورے بنگال کو عالمی سطح پر شرمندہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھیں اور خاص طور پر سندیش کھالی جیسے علاقوں میں خواتین کے استحصال کو نظرانداز کیا گیا۔ امت شاہ نے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے گی۔ امت شاہ نے اپنی تقریر میں ترنمول کانگریس حکومت پر مختلف گھوٹالوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اساتذہ کی بھرتی گھوٹالہ، ایس ایس سی اسکینڈل، میونسپل کارپوریشن تقرری گھوٹالہ، مویشی اسمگلنگ اور منریگا و پردھان منتری آواس یوجنا میں بدعنوانی کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا پیسہ ہضم کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا اور بی جے پی اقتدار میں آ کر ایسے تمام معاملات کی مکمل جانچ کرے گی۔
انتخابی سیاست میں نیا رخ اور عوامی ردعمل
اس معاملے نے انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ آرجی کر کیس کی متاثرہ خاتون کی والدہ رتنا دیبناتھ کو بی جے پی نے امیدوار بنایا ہے، جو پانی ہاٹی سیٹ سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اس موقع پر اسمرتی ایرانی نے انہیں خواتین کی جدوجہد اور حوصلے کی علامت قرار دیا۔ دوسری جانب رتنا دیبناتھ نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے انصاف اور دیگر خواتین کے تحفظ کے لیے میدان میں اتری ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جس میں اس طرح کے حساس مسائل انتخابی بیانیے کو مزید تیز کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



