Urdu Conclave 2026

Nuclear Security: امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے جوہری ذخیرے پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے پرغور، مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا امکان

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی جنگ کے بعد کے مرحلے میں کی جا سکتی ہے۔ چار ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری اثاثے اس وقت جاری تنازع میں ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک ہدف بن چکے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔  امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق: ’’اگر آپ امریکیوں کو قتل کریں گے یا دنیا میں کہیں بھی انہیں دھمکائیں گے تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کو تلاش کرکے ختم کر دیں گے۔‘‘

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کے 44 جہاز تباہ کیے گئے، فضائیہ کے بیشتر طیارے تباہ کر دیے گئے، بیشتر میزائل نظام اور لانچرز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اب پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔

لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی ذمہ داری سے انکار

ایران میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر بمباری کی خبروں پر امریکی صدر نے امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ ایرانی ہتھیاروں کی غلطی یا تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اگرچہ سفارتی حل کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وائٹ ہاؤس کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

اس دوران اسرائیلی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں سے ایران کی فوجی لاجسٹک اور انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read