Urdu Conclave 2026

Iran Nuclear

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے کے لیے تیار ہو گیا ہے، لیکن ایران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جوہری نگرانی، پابندیوں میں نرمی اور ایٹمی پروگرام پر عائد کی جانے والی حدود کے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی شدید تعطل برقرار ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے خطۂ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر عدم استحکام اور تنازع کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔