Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump Reaction On Iran: ”مشرق وسطیٰ کا دادا بنا پھرتا تھا…“، ایران کی معذرت پر ٹرمپ کا سخت ردعمل، نئی دھمکیوں سے کشیدگی میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال دراصل امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ”مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا شکست خوردہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی جانب سے پڑوسی خلیجی ممالک سے معذرت کے بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران جو کبھی خطے کا ”دادا“ بنا پھرتا تھا، آج شکست خوردہ اور کمزور ہو کر معافی مانگنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال دراصل امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ”مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا شکست خوردہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان سامنے آتے ہی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا اور اسے ایران کے لیے ایک کھلی دھمکی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے حالیہ بیان میں خلیجی ممالک سے ماضی کی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کی طرف بڑھنے کی ہے۔ ایرانی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ جب تک کسی پڑوسی ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں کی جاتی، تب تک ایران کی طرف سے ایک بھی میزائل داغا نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق تہران کا مقصد کسی ملک پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان دراصل خطے میں بڑھتی ہوئی تنہائی سے بچنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے ایک طرف پڑوسی ممالک کے لیے نرم لہجہ اختیار کیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔ ہفتے کے روز جاری جنگی کشیدگی کے آٹھویں دن ایران کی طرف سے دو مختلف پیغامات سامنے آئے۔ پہلا پیغام خطے کے خلیجی ممالک کے لیے مفاہمت اور تعاون کا تھا، جبکہ دوسرا پیغام امریکہ اور اسرائیل کے لیے انتہائی سخت اور واضح انتباہ پر مشتمل تھا۔

صدر مسعود پیزشکیان نے ایک اور بیان میں واضح کیا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت ایران کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایران کو جھکتے ہوئے دیکھنے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ یہ خواہش کبھی پوری نہیں کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف سفارتی بیانات اور معذرتوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف سخت دھمکیاں اور فوجی تیاریوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حالات کو فوری طور پر قابو میں نہ لایا گیا تو یہ کشیدگی مزید بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read