اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے 25 لوگوں کی موت کے بعد اب مہو میں آلودہ پانی پینے سے بیماریوں کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔آلودہ پانی اور یرقان کی وجہ سے چھ بچوں کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں مہو کے مدھیہ بھارت اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مہو میں آلودہ پانی کے رپورٹ ہونے کے بعد اندور کے کلکٹر کل دیر رات صورتحال کا جائزہ لینے پہنچے اور محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام بیمار مریضوں کا بہتر علاج کریں۔
آلودہ پانی سے 19 بچوں سمیت 25 افراد بیمار
مہو کے پٹی بازار علاقے میں آلودہ پانی کی شکایات کئی دنوں سے سامنے آ رہی تھیں۔ یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب چندن مارگ کے کئی رہائشیوں کو جگر کے بڑھتے ہوئے مسائل اور یرقان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے بعد کل سے اب تک یہاں تقریباً 25 افراد کے بیمار ہونے کی اطلاع ہے، جن میں سے 19 بچے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔
زیادہ تر لوگ یرقان میں مبتلا
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو یرقان ہے۔ اس کی وجہ آلودہ پانی کی فراہمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد اندور کے کلکٹر شیوم ورما کل دیر رات مہو پہنچے اور اسپتال میں مریضوں اور متاثرہ راستے پر رہائشیوں سے بات کی۔ کلکٹر کو بتایا گیا کہ آلودہ پانی پینے سے کئی لوگ بیمار ہو گئے ہیں۔ کچھ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جب کہ دیگر گھر پر ہی علاج کر رہے ہیں۔
کلکٹر نے پانی کی جانچ کا حکم دیا
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمہ صحت کا عملہ بھی علاج کے لیے پہنچ گیا۔ ایک طبی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی ہے اور لوگوں کو ادویات فراہم کر رہی ہے۔ لوگوں کو ابلا ہوا پانی پینے کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، علاقائی ایم ایل اے اوشا ٹھاکر نے بھی اسپتال میں متاثرین کی عیادت کی۔ کلکٹر شیوم ورما نے محکمہ صحت کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ، ’’محکمہ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر ایک کو مناسب علاج فراہم کرے۔ مہو کینٹ بورڈ کو بھی پانی کی جانچ اور صفائی برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسپتال میں مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘‘ وہیں مقامی لوگ حکومت کی اس لاپرواہی پر کافی ناراض ہیں اور عام شہریوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کا الزام لگا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
