Bharat Express DD Free Dish

polluted water

ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔کارتک نے تمسا ندی کی صفائی کا بیڑا اٹھایا اور روزانہ کئی گھنٹے ندی میں اتر کر کچرا نکالنا شروع کردیا۔ وہ مسلسل 3 سے 4 گھنٹے تک ندی کی صفائی کرتا رہا۔

پانی کے نمونوں کی جانچ میں تشویشناک انکشاف سامنے آئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں پانی کے مختلف ذرائع سے نمونے لیے گئے تھے۔ جانچ کے دوران ان میں ایسے بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی جو انسانی فضلے سے آلودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

احمد آباد کے سولا علاقے میں آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث تقریباً 50 افراد بیمار ہو گئے۔ سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں شامل ہونے سے کئی رہائشی سوسائٹیاں متاثر ہوئیں۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے فوری کارروائی کی ہدایت دی، جبکہ محکمہ صحت کی ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن جاری ہے۔ یکم فروری کو بجٹ پیش ہونے کے بعد سے ہی دیگر اہم قومی مسائل بھی ایوان میں سننے کو مل رہے ہیں۔ اندور میں پیش آنے والے آلودہ پانی کے واقعے کو پیر کے روز ایوان میں اٹھایا گیا اور اس پر سوالات کیے گئے۔ آئیے جانتے ہیں کہ حکومت نے اس پر کیا جواب دیا۔

مدھیہ پردیش کے اندور کے بعد اب  مہو میں آلودہ پانی پینے  سے تباہی مچی ہوئی ہے۔ یہاں19 بچوں سمیت 25 سے زیادہ لوگوں کو آلودہ پانی کی وجہ سے یرقان ہو گیا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔ حکومت کی اس لاپرواہی پر مقامی لوگوں میں شدید غصہ دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر سدیش تیواری نے بھاگیرتھ پورہ معاملے میں اہم سوالات کے جوابات تلاش کیے۔ اندور کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پانی جیسی بنیادی سہولت میں لاپروائی کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اندور جیسے شہر میں ایسی صورتحال سب کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹوارى نے دعویٰ کیا تھا کہ بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے اب تک 24 افراد کی موت ہو چکی ہے، جب کہ 8 سے 10 مریضوں کی حالت نہایت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے مطابق، پورے صوبے میں ریاست گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔ اندور میں کانگریس کارکن مہاتما گاندھی کے مجسموں کے قریب دھرنا دیں گے اور حکومت کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہونے والی اموات پر این سی پی (ایس پی) راجیہ سبھا کی رکن اسمبلی فوزیہ خان کا کہنا ہے کہ "یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، اس کی مذمت کافی نہیں ہے، بچے مر رہے ہیں، آلودہ پانی لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ملک میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس سے ہمیں اس سے زیادہ فکر مند ہو۔"

اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی کے باعث قے اور دست کی بیماری پھیل گئی ہے۔ اب تک تین افراد کی موت ہو چکی ہے اور 150 سے زیادہ لوگ بیمار ہیں۔ حکومت نے متاثرہ افراد کے علاج کا پورا خرچ اٹھانے اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔