Urdu Conclave 2026

government negligence

پانی کے نمونوں کی جانچ میں تشویشناک انکشاف سامنے آئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں پانی کے مختلف ذرائع سے نمونے لیے گئے تھے۔ جانچ کے دوران ان میں ایسے بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی جو انسانی فضلے سے آلودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مہاراشٹر کے ضلع بھنڈارا میں تعلیمی نظام پوری طرح سے درہم برہم ہو چکا ہے۔ ضلع کے 50 ضلع پریشد اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی استاد تعینات نہیں، جبکہ پورے ضلع میں تقریباً 800 اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ایسے میں مودی حکومت کی ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور معیاری تعلیم کے دعووں کی زمینی حقیقت نہایت تشویشناک نظر آتی ہے۔

عام طور پر اسپتال انسانوں اور جانوروں کے لیے الگ الگ بنائے جاتے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، پھر ہم اس کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ آپ درست سوچ رہے ہیں، لیکن جو واقعہ ہم بتانے جا رہے ہیں اسے سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔

چھتیس گڑھ کے کوردھا میں ایک شوہر اپنی کینسر سے متاثرہ بیوی کو موٹر سائیکل پر لٹا کر کلیکٹریٹ پہنچا، علاج کے لیے مدد کی اپیل کی مگر خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔

چرمری کے این سی پی ایچ اسپتال  ایس ای سی ایل کی لاپرواہی کا شکار ہو گیا ہے۔ کبھی مریضوں سے بھری او پی ڈی آج سنّاٹے میں ہے۔ عملے کی کمی اور خراب انتظامات نے اسپتال  کو خود علاج کا محتاج بنا دیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے اندور کے بعد اب  مہو میں آلودہ پانی پینے  سے تباہی مچی ہوئی ہے۔ یہاں19 بچوں سمیت 25 سے زیادہ لوگوں کو آلودہ پانی کی وجہ سے یرقان ہو گیا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔ حکومت کی اس لاپرواہی پر مقامی لوگوں میں شدید غصہ دیکھا جا رہا ہے۔

بیگوسرائے ضلع کے چھوڑاہی تھانہ علاقے کے بکھڑا گاؤں میں مویشیوں کے لیے جلائی گئی آگ سے شدید تباہی مچ گئی۔ متاثرہ خاندانوں کا تمام سامان جل کر خاک ہو گیا،فائر بریگیڈ کی گاڑی تاخیر سے پہنچنے پر لوگ کافی  ناراض بھی ہیں۔

’’سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ صرف عوام سے اپیل کرنے کے بجائے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، نالوں کی صفائی اور بروقت انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ دہلی کے شہری بڑے بحران سے بچ سکیں۔‘‘