ایم سی بی ضلع (منندر گڑھ-چرمری-بھرت پور) کے چرمری میں واقع این سی پی ایچ (NCPH) اسپتال ، جسے کبھی پورے علاقے کی صحت کی زندگی امید سمجھا جاتا تھا، آج بدحالی اور غفلت کی تصویر بن چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب اس اسپتال کی او پی ڈی میں روزانہ سینکڑوں مریض علاج کے لیے آتے تھے۔ دور دراز کے گاؤں سے لوگ اعتماد کے ساتھ یہاں آتے تھے، لیکن آج حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔
کبھی مریضوں کی بھیڑ، آج سنّاٹا
کبھی مریضوں کی بھاری تعداد، ڈاکٹروں کی دوڑ دھوپ اور علاج کی چہل پہل سے بھرا یہ اسپتال آج سنّاٹے میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ او پی ڈی میں جہاں پہلے لمبی قطاریں لگتی تھیں، وہاں آج ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ اسپتال کے ہالز میں بند کمروں کے تالے اور سنسان وارڈ اس بات کی کہانی بیان کر رہے ہیں کہ انتظامات کی سنگین کمی نے ادارے کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔
اسپتال غفلت کا شکار
اسپتال کا اوپری حصہ کسی طرح چل رہا ہے، لیکن نچلی یونٹ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کئی وارڈ بند پڑے ہیں، ضروری عملہ موجود نہیں ہے اور علاج کی جگہ اب خاموشی نے گھیر لیا ہے۔ دیکھ بھال کے فقدان کے باعث عمارت بھی بوسیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ دیواریں، چھت اور کمروں کی حالت واضح کرتی ہے کہ اسپتال خود علاج کا محتاج ہو گیا ہے۔
ایس ای سی ایل کی غفلت
اس پورے بحران کی سب سے بڑی ذمہ داری SECL (Singareni Collieries Company Limited) کے انتظام پر ہے۔ سماجی ذمہ داری کے تحت یہ اسپتال SECL کے ماتحت آتا ہے، لیکن مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے اس ادارے سے منہ موڑ لیا ہے۔ عملے کی شدید کمی نے اسپتال کی کارکردگی کو مکمل طور پر متاثر کر دیا ہے۔ نہ کافی نرسنگ اسٹاف ہے، نہ وارڈ بوائے، اور نہ ہی معاون عملہ موجود ہے۔
مریض پر اثرات
نتیجتاً، مریض مجبوراً نجی اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں مہنگے علاج کا بوجھ عام لوگوں کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔ مقامی شہری کہتے ہیں کہ اگر SECL انتظامیہ سنجیدگی دکھائے اور فوری طور پر نرسنگ اور معاون عملے کی بھرتی کرے، تو یہ اسپتال دوبارہ علاقے کے لوگوں کے اعتماد کا مرکز بن سکتا ہے اور او پی ڈی میں دوبارہ رونق لوٹ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

