Bharat Express DD Free Dish

Waterlogging in capital city Delhi: راجدھانی میں ہلکی بارش کے بعد بھی سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار، حکومت لاپروائی کا مظاہرہ کر رہی ہے: دیویندر یادو

’’سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ صرف عوام سے اپیل کرنے کے بجائے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، نالوں کی صفائی اور بروقت انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ دہلی کے شہری بڑے بحران سے بچ سکیں۔‘‘

دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے راجدھانی میں ہلکی بارش کے بعد بھی سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر سیلاب آیا تو دہلی کو خوفناک نتائج بھگتنے ہوں گے۔

جمنا ندی کا پانی خطرے کے نشان کے قریب

دیویندر یادو نے بتایا کہ جمنا ندی کا پانی آج 205.33 میٹر تک پہنچ گیا ہے۔ ہتھنی کنڈ بیراج کے تمام 18 دروازے کھولنے کے بعد دوپہر 12 بجے تک 1,78,996 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے، جو 19 اگست کی رات تک دہلی پہنچے گا۔ اس کے بعد جمنا ندی کا پانی خطرے کے نشان یعنی 206 میٹر کو عبور کر سکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی لاپروائی پر تنقید

دیویندر یادو نے کہا کہ ’’ہلکی سی بارش میں ہی ڈوب جانے والی دہلی بی جے پی کی ریکھا حکومت کی لاپروائی کے باعث سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے میں پوری طرح ناکام ہوگی اور دہلی کے عوام کے لیے یہ صورتحال بہت خطرناک اور خوفناک ہوسکتی ہے۔ جمنا میں بڑھتے پانی کی سطح نے دہلی کے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری اور جوابدہی طے کرنے کا ہے۔

2023 کے سیلاب سے سبق نہ سیکھا گیا

یادو نے یاد دلایا کہ 2023 میں آنے والے سیلاب کے دوران آئی ٹی او، سپریم کورٹ، سول لائنس، گاندھی اسمرتی اور جے جے کلسٹر جیسے علاقے پانی میں ڈوب گئے تھے۔ اس کی بڑی وجہ نالوں، سڑکوں اور حتیٰ کہ آئی ٹی او بیراج کی صفائی نہ ہونا تھا۔ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ آنے کے باعث دہلی کو بدترین نقصان اٹھانا پڑا تھا لیکن حکومت نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

ہتھنی کنڈ، وزیر آباد اور اوکھلا بیراج

دہلی کانگریس صدر نے بتایا کہ ہتھنی کنڈ بیراج سے فی گھنٹہ 1,27,030 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جو اس مانسون سیزن کا سب سے زیادہ اخراج ہے۔ وزیرآباد بیراج سے بھی فی گھنٹہ 45,620 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ پانی 48 سے 50 گھنٹوں کے اندر دہلی پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر اوکھلا بیراج سے بھی پانی چھوڑا گیا تو دہلی کے حالات مزید سنگین ہو جائیں گے۔

حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت

دیویندر یادو نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے اپیل کرتے ہوئے کہا: ’’سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ صرف عوام سے اپیل کرنے کے بجائے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، نالوں کی صفائی اور بروقت انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ دہلی کے شہری بڑے بحران سے بچ سکیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔