دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو لے کر عالمی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ مسلسل گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات دے رہا ہے، تو دوسری جانب ڈنمارک اس معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ اسی دوران روس اور چین بھی اس خطے میں بڑھتی امریکی دلچسپی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شدید سرد موسم اور کم آبادی کے باوجود گرین لینڈ آج عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔ بظاہر برف سے ڈھکا، ویران اور بنیادی سہولیات سے محروم نظر آنے والا گرین لینڈ جغرافیائی اور اسٹریٹجک اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں نہ بڑے شہر ہیں اور نہ ہی جدید انفراسٹرکچر، جبکہ کل آبادی محض تقریباً 56 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود امریکہ، روس اور چین جیسی طاقتیں اس جزیرے پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اس وقت گرین لینڈ ڈنمارک کے ماتحت ہے، تاہم اسے اندرونی خودمختاری حاصل ہے، جبکہ دفاع اور خارجہ پالیسی کی ذمہ داری ڈنمارک کے پاس ہے۔
گرین لینڈ شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک سمندر کے درمیان واقع ہے اور جغرافیائی طور پر شمالی امریکہ کا حصہ مانا جاتا ہے۔ اس کی واحد زمینی سرحد کینیڈا سے ملتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گرین لینڈ آرکٹک خطے میں داخلے کا اہم دروازہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جب گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں تو نئے سمندری راستے کھل رہے ہیں، جو ایشیا، یورپ اور امریکہ کے درمیان تجارتی فاصلے کو کم کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ راستے عالمی تجارت کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکہ بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ گرین لینڈ اس کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ گرین لینڈ میں واقع امریکی تھلے ایئر بیس پہلے ہی میزائل وارننگ سسٹم اور خلائی نگرانی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں روس اور چین کی عسکری سرگرمیوں میں اضافے کے بعد امریکہ گرین لینڈ کو اپنی آرکٹک دفاعی حکمت عملی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہے۔ روس آرکٹک خطے کو اپنے اثر و رسوخ کا حصہ تصور کرتا ہے اور اس کے لیے گرین لینڈ نیٹو اور امریکہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا حساس مقام ہے۔ دوسری جانب چین خود کو ’قریب آرکٹک ریاست‘ قرار دیتا ہے اور مختلف معاشی و سائنسی منصوبوں کے ذریعے گرین لینڈ میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
گرین لینڈ کے نیچے قدرتی وسائل کا ایک بڑا خزانہ موجود ہے، جن میں ریئر ارتھ منرلز، یورینیم، زنک، آئرن اور تیل و گیس کے ممکنہ ذخائر شامل ہیں۔ یہ وہ معدنیات ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز، دفاعی نظام اور ہائی ٹیک صنعتوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ چونکہ چین پہلے ہی ان معدنیات کی عالمی سپلائی چین میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، اس لیے امریکہ چین اور روس کے اثر کو روکنے کے لیے گرین لینڈ میں اپنی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے۔ ڈنمارک کے لیے بھی گرین لینڈ کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ اس کے بغیر وہ آرکٹک سیاست میں اپنا کردار تقریباً کھو دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ گرین لینڈ آج شدید سردی کے باوجود عالمی طاقتوں کے درمیان سیاسی درجۂ حرارت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


