Bharat Express DD Free Dish

Khushi Mukherjee Defamation Case: کرکٹر سوریہ کمار یادو پر الزام لگانا خوشی مکھرجی کو پڑا مہنگا،اداکارہ کے خلاف 100 کروڑ روپے کی ہتک عزت کا مقدمہ درج

خوشی مکھرجی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ کسی بھی کرکٹر کو ڈیٹ نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی کرکٹرز ان کے پیچھے ہیں اور سوریہ کمار یادو پہلے انہیں کافی پیغامات بھیجتے تھے، تاہم اب بات چیت کم ہو گئی ہے۔

نئی دہلی:سوشل میڈیا پر اپنے منفرد اور متنازع لباس کے باعث خبروں میں رہنے والی اداکارہ خوشی مکھرجی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کا کوئی فیشن یا گلیمر نہیں بلکہ ایک متنازع بیان ہے، جو انہیں قانونی مشکل میں لے آیا ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سوریہ کمار یادو سے متعلق بیان دینے کے بعد خوشی مکھرجی کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔چند دن قبل ایک میڈیا انٹریکشن کے دوران خوشی مکھرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ سوریہ کمار یادو انہیں سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجتے تھے۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی تھی اور معاملہ تیزی سے وائرل ہو گیا تھا۔ اب ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوریہ کمار یادو کے ایک مداح، فیضان انصاری، نے خوشی مکھرجی کے خلاف گازی پور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں اداکارہ پر 100 کروڑ روپے کی ہتکِ عزت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فین کے الزامات، شہرت کے لیے بے بنیاد دعویٰ

شکایت کنندہ فیضان انصاری کا کہنا ہے کہ خوشی مکھرجی نے یہ بیان محض شہرت حاصل کرنے کے لیے دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ الزام نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ اس سے سوریہ کمار یادو جیسی معروف اور باوقار شخصیت کی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فیضان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اداکارہ نے اپنے دعوے کے حق میں نہ کوئی ثبوت پیش کیا اور نہ ہی کسی قسم کے چیٹ اسکرین شاٹس دکھائے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک بے بنیاد الزام ہے۔ فیضان انصاری کے مطابق سوریہ کمار یادو ایک ذمہ دار اور قومی سطح کے کھلاڑی ہیں، جن کی ساکھ پر اس طرح کے بیانات برا اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے قانونی کارروائی کا سہارا لیا ہے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

خوشی مکھرجی کا متنازع بیان

خوشی مکھرجی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ کسی بھی کرکٹر کو ڈیٹ نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی کرکٹرز ان کے پیچھے ہیں اور سوریہ کمار یادو پہلے انہیں کافی پیغامات بھیجتے تھے، تاہم اب بات چیت کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کسی قسم کے لنک اپ یا افواہوں سے خود کو دور رکھنا چاہتی ہیں۔یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا تھا اور اداکارہ کو سخت تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب اس معاملے نے قانونی شکل اختیار کر لی ہے اور دیکھنا یہ ہوگا کہ اس تنازع پر آگے کیا رخ اختیار کیا جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read