روس۔یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں 28 نکاتی امن منصوبہ جاری کیا تھا۔اس منصوبے میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ روس کو کچھ علاقے حوالے کرے، اپنی فوجی صلاحیت محدود کرے اور ماسکو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے معاملے میں کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اس تجویز نے کئی یورپی ممالک کو حیران کر دیا۔
یورپ کی متبادل تجویز
اتوار کے روز یورپی ممالک نے بھی 28 نکاتی ایک منفرد اور متبادل امن منصوبہ پیش کیا۔ اس میں امریکہ کی حمایت یافتہ مسودے کی متعدد شرائط کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کسی بھی حل میں یوکرین کی خودمختاری کا احترام لازمی ہے۔ یورپی لیڈروں کا کہنا ہے کہ علاقائی گفت و شنید صرف جنگ بندی کے بعد ہی شروع ہو سکتی ہے اور پہلے سے طے شدہ زمینی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
نیٹو اور خودمختاری پر موقف
امریکی منصوبے میں کہا گیا تھا کہ مستقبل میں یوکرین کو نیٹو میں شمولیت سے روک دیا جائے۔ جبکہ یورپی منصوبے میں واضح کیا گیا کہ اس معاملے پر اتحادی ممالک میں فی الحال کوئی مکمل اتفاق نہیں ہے، لیکن یوکرین کے راستے بند نہیں کیے جائیں گے۔ یعنی یورپ نے یوکرین کی خودمختاری اور آزاد فیصلوں کو ترجیح دی ہے۔
فوج اور جوہری پلانٹ کے حوالے سے فرق
امریکہ کی تجویز کے مطابق یوکرین 6 لاکھ فوجی رکھ سکتا ہے، جب کہ یورپی منصوبے میں اس تعداد کو بڑھا کر 8 لاکھ تک کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یورپ نے تجویز پیش کی ہے کہ زاپوروزیا جوہری توانائی پلانٹ کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے کنٹرول میں دیا جائے اور اس کی پیداوار ماسکو اور کیو کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کی جائے۔
جی-20 میں بحث
جنوبی افریقہ میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس میں متعدد یورپی لیڈروں نے امریکی تجویز پر سوال اٹھائے اور کہا کہ اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے یورپ نے فوری طور پر اپنی علیحدہ منصوبہ بندی پیش کی تاکہ یوکرین کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





