Bharat Express DD Free Dish

Russia Ukraine Talks

میروشینک نے کئی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاروبیلسک میں ایک کالج پر حملہ، برائنسک کے علاقے میں بیلاروسی بچوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنانا اور یناکیئیوو میں ایک مسافر بس پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن میں عام شہری متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے دوران کریملن نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج نے مشرقی یوکرین کے اہم شہر کونستانتینوکا    پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق یہ شہر اب روسی فوج کے قبضے میں ہے، جبکہ صدر ولادیمیر پتن نے اسے جنگی حکمتِ عملی کے اعتبار سے انتہائی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے تقریباً 8 ہزار 970 جنگ بندی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی۔ دوسری جانب یوکرینی حکام نے الزام لگایا کہ روسی حملے جنگ بندی کے باوجود جاری رہے، جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک جب کہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

9 سے 11 مئی تک دنیا کی سب سے بڑی جنگ اچانک تھمنے والی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین تین دن کے لیے ہتھیار ڈال دیں گے۔

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر بات کرتے ہوئے پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے مقابلے میں تجارتی معاہدہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ عام طور پر ٹیرف خوشحالی کی ضمانت نہیں دیتے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس-یوکرین جنگ کو پیچیدہ قرار دیا اور اسے بائیڈن کی جنگ کہا۔ انہوں نے پوتن اور زیلنسکی کے درمیان سمجھوتے کے امکانات کا بھی اظہار کیا ہے۔

زیلنسکی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ خارکیف پر روس کا یہ ایک گھناؤنا حملہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو میزائل ایک عام رہائشی علاقے میں گرے، جس سے ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

فلوریڈا کے مار-اے-لاگو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلینسکی کی ملاقات کے دوران روس–یوکرین امن معاہدے پر 90 فیصد اتفاق رائے قائم ہوا۔

روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ نے 28 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں یوکرین سے علاقائی رعایتیں دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس یورپی ممالک نے ایک متبادل منصوبہ پیش کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین تنازع کے درمیان 28 نکاتی امن منصوبہ تیار کیا ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ ملک کو اب خودمختاری اور حمایت کے درمیان مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔