Urdu Conclave 2026

Owaisi targets NDA and India Alliance: بہار میں مسلم وزیر اعلیٰ کیوں نہیں ہو سکتا؟  لالو کے گڑھ میں اویسی نے عظیم اتحاد کو گھیرا

لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم بہار اسمبلی انتخابات میں ریاست کی 32 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور اویسی اپنی پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے زور و شور سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اسد الدین اویسی نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اور اپوزیشن کے انڈیا اتحاد پر الزام لگایا ہے کہ وہ بہار کے مسلم طبقے کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور مرکزی وزرا کے بیانات پر بھی سخت تنقید کی۔

اویسی نے این ڈی اے اور انڈیا اتحاد پر کی سخت تنقید

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز منگل، 28 اکتوبر 2025 کو بہار کے گوپال گنج ضلع سے کیا۔ یہاں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے سوال اٹھایا کہ بہار میں مسلم وزیر اعلیٰ کیوں نہیں ہو سکتا، جب کہ ریاست کی کل آبادی میں اقلیتی طبقے یعنی مسلم برادری کا حصہ 17 فیصد ہے۔ انہوں نے ریاست میں برسر اقتدار این ڈی اے اور اپوزیشن کے انڈیا اتحاد پر مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام لگایا۔

عظیم اتحاد کے نائب وزیر اعلیٰ کے امیدوار پر اویسی کا طنز

حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم بہار اسمبلی انتخابات میں ریاست کی 32 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ پارٹی سربراہ نے گوپال گنج سے اپنی مہم کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے ایک گاؤں میں ریلی نکالی اور عوامی جلسے سے خطاب کیا۔انہوں نے عظیم اتحاد کی طرف سے نائب وزیر اعلیٰ کے امیدوار کو سے متعلق طنز کرتے ہوئے کہا، ’’جب بہار کی کل آبادی میں 17 فیصد حصہ اقلیتی طبقے کا ہے تو ریاست میں ایک مسلمان وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بن سکتا؟ مگر انہيں تین فیصد آبادی والے شخص اور وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ مکیش سہنی کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہے۔‘‘ اویسی نے بی جے پی کا نام لے کر عظیم اتحاد کو گھیرتے ہوئے کہا، ’’ کانگریس، آر جے ڈی اور سماجوادی پارٹی جیسے اپوزیشن کے لیڈران پہلے مسلمانوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا خوف دکھاتے ہیں، پھر انہی سے ووٹ مانگتے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام پارٹیاں خود کبھی بی جے پی کو روک نہیں پائیں، لیکن مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ ایسے جملے بازی کرتے رہتے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read