کٹھمنڈو: نیپال کی عبوری وزیراعظم سشیلا کارکی نے پیر کے روز اپنی کابینہ میں چار نئے وزراء شامل کیے۔ نو منتخب وزراء نے شیتل نیواس (صدر کی سرکاری رہائش گاہ) میں صدررام چندر پاؤڈیل کے ہاتھوں حلف لیا۔
نئے وزراء اور ان کے قلمدان
عبوری وزیراعظم نے سابق جج انل کمار سنہا کو تین اہم وزارتیں سونپیں جن میں صنعت، تجارت و رسد، قانون و انصاف اور زمین اصلاحات، کوآپریٹو اور غربت کے خاتمے کی وزارت شامل ہے۔ میگسیسے ایوارڈ یافتہ مہابیر پن کو تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ طویل عرصے سے نیپال میں سائنس و تحقیق کی ترقی میں سرگرم ہیں اور فی الحال نیشنل انوویشن سینٹر کی قیادت کر رہے ہیں۔ مدن پرساد پریار کو زراعت کا وزیر بنایا گیا ہے۔ وہ ماہر ماحولیات اور زراعت کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ’’سمتا فاؤنڈیشن‘‘ کے صدر بھی ہیں۔ وہ ماضی میں آئین ساز اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ریاستی ڈھانچہ جاتی کمیشن کے کوآرڈینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ میڈیا پروفیشنل اور امیج چینلز کے ایڈیٹر جگدیش کھریال کو اطلاعات و مواصلات کی وزارت دی گئی ہے۔
کارکی کابینہ کے موجودہ وزراء
اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔
حالیہ احتجاجات اور تحقیقاتی کمیشن
دوسری جانب، جنریشن زی احتجاجی تحریک کے دو ہفتے بعد حکومت نے اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دیا ہے جو ہلاکتوں، آتشزدگی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی تحقیقات کرے گا۔ یہ مظاہرے تشدد میں بدل گئے تھے جن میں جانی و مالی نقصان بھاری پیمانے پر ہوا۔ وزیر داخلہ اوم پرکاش آریال کے مطابق، اس کمیشن کی قیادت سابق اسپیشل کورٹ کے چیئر اور ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج گوری بہادر کاکی کریں گے، جب کہ دو دیگر اراکین میں سابق اے آئی جی نیپال پولیس بگیان راج شرما اور ایڈوکیٹ بشویشور پرساد بھنڈاری شامل ہیں۔ یہ کمیشن تین ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔
حالیہ تشدد کی تفصیلات
8 ستمبر کو پولیس نے پارلیمنٹ کے سامنے بدعنوانی کے خلاف احتجاج اور سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کرنے کے مطالبے پر مظاہرہ کرنے والے طلباء اور نوجوانوں پر فائرنگ کی تھی جس میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ اگلے ہی دن مزید 39 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 15 افراد جلنے سے لقمۂ اجل بنے۔ سات دن کے اندر مزید 12 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

