Bharat Express DD Free Dish

Asia Cup 2025: بھارت-پاکستان کرکٹ میچ کا جادو ہوا بے اثر؟ دبئی میں آدھے ٹکٹ بھی نہ بک سکے، شائقین کا کیا جنون ہورا ہے ختم

رپورٹس کے مطابقدبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ کے 50 فیصد سے زائد ٹکٹس اب تک فروخت ہی نہیں ہو سکے۔ عام طورپرایسے میچز کے لیے ٹکٹس ریلیز ہوتے ہی منٹوں میں بک جاتے ہیں،

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ ہمیشہ سے ایک “کرکٹ جنگ” کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ دہائیوں سے یہ مقابلہ نہ صرف میدان میں بلکہ شائقین کے دلوں میں بھی سب سے زیادہ جوش و خروش کا باعث بنتا رہا ہے۔ لیکن اس بار ایشیاء کپ 2025 کے تحت 14 ستمبر کو دبئی میں ہونے والے اس ہائی وولٹیج میچ کی فضا کچھ مختلف ہے — نہ ہجوم، نہ ٹکٹوں کی مارا ماری، اور نہ ہی روایتی شور۔
ٹکٹ فروخت کا گراف زمین بوس
رپورٹس کے مطابقدبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ کے 50 فیصد سے زائد ٹکٹس اب تک فروخت ہی نہیں ہو سکے۔ عام طورپرایسے میچز کے لیے ٹکٹس ریلیز ہوتے ہی منٹوں میں بک جاتے ہیں، اور بلیک مارکیٹ میں لاکھوں روپے تک بھی فروخت ہوتے رہے ہیں۔لیکن اس بار نہ تو اسٹیڈیم کے باہر لائنیں ہیں، نہ ہی آن لائن پلیٹ فارمز پر رش۔ یہ صورتحال صرف غیر متوقع ہی نہیں بلکہ تاریخی بھی ہے۔
“خاموش بائیکاٹ” — جذباتی ردِعمل یا سوچا سمجھا احتجاج؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ بھارتی عوام کی ناراضگی ہےرواں سال کے آغاز میں پہلگام میں پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد حملے میں 26 معصوم جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔”آپریشن سندور” میں بھارتی فوج نے جوابی کارروائی کی، مگر عوامی جذبات کو قرار نہ ملا۔ ایسے میں عوام کو امید تھی کہ BCCI پاکستان کے ساتھ کرکٹ روابط کو منقطع کرے گا۔ لیکن ایسا نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر “بائیکاٹ پاکستان” مہم زور پکڑ گئی — اور یہی غصہ اب ٹکٹوں کی فروخت پر بھی صاف نظر آ رہا ہے۔
کیا BCCI بھی خاموشی سے کر رہا ہے بائیکاٹ
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک BCCI کا کوئی سینیئر افسر دبئی نہیں پہنچا، جو ایک روایتی بھارت-پاکستان میچ کے موقع پر غیر معمولی بات ہے۔ کیا یہ “سائلیٹ بائیکاٹ” کی علامت ہے؟ اس سوال نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی — شائقین کا جوش ٹھنڈا
اس بار پاکستان کی ٹیم خود بھی فینز کا اعتماد کھو چکی ہے۔ پچھلے پانچ ون ڈے/ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھارت نے پاکستان کو آسانی سے شکست دی ہے، جس نے مقابلے کی سنسنی کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔پاکستانی فینز بھی ہر ہار کے بعد سوشل میڈیا پر مایوسی اور غصے کا اظہار کرتے ہیں، جس سے واضح ہے کہ نہ صرف بھارتی بلکہ پاکستانی شائقین بھی اس روایتی مقابلے سے دور ہو رہے ہیں۔
کیا بھارت-پاکستان کرکٹ مقابلہ اب “عام میچ” بن چکا ہے؟
بھارت-پاکستان میچ کا سیاسی، جذباتی اور کرکٹنگ اثر اب زوال پذیر ہے۔دبئی کے اسٹیڈیم میں اگر آدھی کرسیاں خالی رہتی ہیں، تو یہ نہ صرف کرکٹ بورڈز بلکہ سیاسی قیادتوں کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہوگا — کہ عوام اب صرف جذباتی تماشوں سے نہیں، عمل اور اصولوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
کیا یہ صرف ایک وقتی رویہ ہے یا نیا معمول؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ 14 ستمبر کو شائقین کی دلچسپی پلٹے گی یا یہ میچ نئے کرکٹ دور کے آغاز کا اشارہ دے گا — جہاں کرکٹ صرف کھیل نہیں، بلکہ سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر ناپی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read