Urdu Conclave 2026

Supreme Court on Bihar SIR: ’بہار ایس آئی آر میں آدھارکارڈ یا 11 دیگردستاویزقابل قبول ہیں‘، الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ نے دی بڑی ہدایت

بہارمیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ چل رہی ووٹرلسٹ خصوصی نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آرسے متعلق سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کیشن نے ہمارے مشوروں پرعمل کیا ہے۔ اس کی طرف سے حلف نامہ بھی دیا گیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ (22 اگست، 2025) کو بہاراسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) معاملے کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کوحکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ایس آئی آرعمل میں 11 دستاویزوں کے ساتھ آدھار کارڈ کو بھی قبول کریں اوراس پورے عمل کورائے دہندگان کے مطابق بنائیں۔

بہارمیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ چل رہی ووٹرلسٹ خصوصی نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آرسے متعلق سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کیشن نے ہمارے مشوروں پرعمل کیا ہے۔ اس کی طرف سے حلف نامہ بھی دیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیاں بی ایل اے کے ذریعہ اعتراض اوردعوے درج کرائے جائیں۔ 12 سیاسی پارٹیوں کے بی ایل اے جو1.6 لاکھ بی ایل اے ہیں اورہر10 لوگوں کے حساب سے 16 لاکھ اعتراضات اوردعوے باقی 10 دنوں میں درج کراسکتے ہیں۔ نئے ووٹر جڑرہے ہیں، سیاسی پارٹیوں کے نمائندے طے تاریخ تک اعتراض اوردعوے کی جانکاری الیکشن کمیشن کومہیا کرائیں۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں سے کیا کہا؟

وہیں، سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کوبہارمیں ووٹرلسٹ سے باہرہوئے ووٹروں کی اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں سے کہا ہے کہ وہ بہارمیں ووٹرلسٹ سے نکالے گئے ووٹروں کی مدد کریں اوراپنا دعویٰ درج کریں۔ عدالت نے کہا، “یہ حیرت کی بات ہے کہ سیاسی پارٹیاں بہارمیں ووٹرلسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت ووٹروں کے ناموں کوحذف کرنے کے معاملے کودرست کرنے کے لیے آگے نہیں آئیں۔ ایس آئی آرکا پورا عمل ووٹردوست ہونا چاہئے، سیاسی جماعتوں کو اس کے لیے آگے آنا چاہئے۔”

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read