نئی دہلی: کانگریس لیڈر اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیراعظم نریندر مودی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور ہند-پاک سیز فائر میں اپنے کردار کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی دہلی کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگایا، جس پر کانگریس قیادت نے حکومت کی خاموشی کو ملک کی خودمختاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
مودی جی دوست بناتے ہیں، عوام نقصان اٹھاتی ہے
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی پوری دنیا میں گھومتے ہیں، دوستیاں کرتے ہیں اور پھر ہمیں ٹیرف اور سیز فائر جیسے نقصانات جھیلنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دو بڑے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ ایک ٹرمپ کے سیز فائر دعوے کا اور دوسرا امریکی ٹیرف پالیسی پر حکومت کی جانب سے اب تک اختیار کردہ خاموشی کا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں مسئلے نہ صرف سفارتی سطح پر ہندوستان کی خودداری سے جڑے ہیں بلکہ ملک کی تجارتی خودمختاری اور بین الاقوامی وقار پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
چدمبرم نے ٹیرف کو WTO کی خلاف ورزی قرار دیا
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف اور روسی تیل کی خرید پر جرمانہ جیسے اقدامات ملک کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوستی، سفارت کاری اور صبر آزما گفت و شنید کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ چدمبرم نے امریکہ کی اس پالیسی کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ٹرمپ کا سیز فائر دعویٰ اور کانگریس کی شدید مخالفت
ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکا۔ اس دعوے کو کانگریس نے ہندوستان کی خودمختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ صاف الفاظ میں عوام کو بتائیں کہ آیا ٹرمپ کا بیان درست ہے یا جھوٹ۔
مودی جی خاموش کیوں ہیں؟
کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے بھی تیکھے انداز میں کہا کہ ٹرمپ، مودی جی کے اردگرد سانپ کی طرح لپٹے ہوئے ہیں، اور راہل گاندھی نے انہیں اس سے نکلنے کا سنہرا موقع دیا تھا۔ مگر وزیر اعظم نے خاموشی اختیار کر لی۔
سفارت کاری یا خودسپردگی؟
کانگریس کا موقف واضح ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں خاموشی کمزوری کی علامت ہے اور موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی نہ صرف تضاد کا شکار ہے بلکہ ملک کی خودمختاری اور وقار کو زک پہنچا رہی ہے۔ پرینکا گاندھی اور دیگر لیڈروں کی تنقید اب اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں حکومت سے عوامی وضاحت کی امید زور پکڑ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم مودی امریکی صدر کے ان متنازع بیانات پر کوئی جواب دیں گے یا خاموشی کے پردے میں سفارتی تعلقات کو ڈھکنے کی پالیسی جاری رکھیں گے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



