Bharat Express DD Free Dish

India Diplomacy

وکرم مسری پاکستان، یورپ اور امریکہ میں مختلف سفارتی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ وہ میانمار اور چین میں ہندوستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، کواڈ ممالک اور یورپی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

اجلاس میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف برکس ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کئی شراکت دار ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سلامتی، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کا اسرائیل اور فلسطین دونوں کے رہنماؤں کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ درحقیقت، جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2018 میں فلسطین کا دورہ کیا، تو وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے جنہوں نے فلسطین کا سرکاری دورہ کیا۔ مزید برآں، انہیں فلسطین کے صدر محمود عباس کی جانب سے ’گرینڈ کالر آف دی اسٹیٹ آف فلسطین‘ سے نوازا گیا، جو بھارت اور فلسطین کے تعلقات کو فروغ دینے میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

کانگریس کا موقف واضح ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں خاموشی کمزوری کی علامت ہے اور موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی نہ صرف تضاد کا شکار ہے بلکہ ملک کی خودمختاری اور وقار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

وفود کی قیادت ششی تھرور، روی شنکر پرساد، سنجے جھا، کنی موزی کروناندھی، سپریا سولے، بجیانت پانڈا اور شریکانت شندے نے کی۔ ان رہنماؤں نے پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی پر روشنی ڈالی اور ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا۔