فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس فریم ورک پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ یہ فریم ورک 60 دن کے لیے جنگ روکنے اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ہے۔
اسرائیل پہلے ہی کر چکا ہے اس تجویز کو منظور
اسرائیل پہلے ہی اس تجویز کو قبول کر چکا ہے، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان حتمی بات چیت جلد شروع ہونے کی امید ہے۔ ایک فلسطینی نژاد امریکی ثالث بشارہ نے کہا ہے کہ ہم اب اس جنگ کے خاتمے کے بہت قریب ہیں۔ ان کے مطابق حماس نے کچھ ترامیم تجویز کی ہیں، لیکن وہ معاہدے میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔
تجویز کے مطابق جنگ بندی کے دوران حماس 10 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گا، جن میں 8 زندہ اور 2 جاں بحق ہیں۔ بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور شمالی غزہ سے افواج نکالے گا۔ بعد ازاں دونوں فریق مستقل جنگ بندی کے لیے آگے مذاکرات کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے تک جنگ بندی کا امکان ظاہر کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے تک جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے گا۔ انھوں نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے۔ واضح رہے کہ قطر اور مصر نے اس معاہدے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیل پر دباؤ ہے کہ وہ انسانی امداد غزہ میں پہنچنے دے۔ اس جنگ میں اب تک 57,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچوں اور خواتین کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو کئی ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی راہ کھل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


