Bharat Express DD Free Dish

Israel-Hamas

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے تک جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے گا۔ انھوں نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے۔

تفصیلات کے مطابق، غزہ میں دشمنانہ کارروائیاں دو ہفتوں کے اندرختم کردی جائیں گی اورجنگ کے خاتمے کی شرائط میں چارعرب ممالک جن میں مصراورمتحدہ عرب امارات شامل ہیں کوغزہ کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔  اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی لڑائی کو روکنے اور بقیہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ حماس کا زور جنگ کے خاتمے اور تمام آئی ڈی ایف فورسز کو واپس بلانے پر رہا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج کو واپس بلا لے گا۔

اسرائیلی فضائیہ نے اتوار کی رات رفح کے علاقے تل السلطان میں پناہ گزینوں کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔ اس میں 45 فلسطینی شہید ہوئے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں۔

بشنیل نے اس المناک واقعے کی ویڈیو کو ٹویچ پر لائیو اسٹریم کیا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ فوٹیج میں مبینہ طور پر اسے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف جاتے ہوئے اور خود پر لکوڈ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جے شنکر نے کہا، ’’دوسرا نکتہ، جیسا کہ اسرائیل نے جوابی کارروائی کی، یہ ضروری ہے کہ اسرائیل کو شہری ہلاکتوں کے بارے میں بہت محتاط رہنا چاہیے تھا۔

عالمی عدالت انصاف نے جمعہ کے روزجنوبی افریقہ کی اسرائیل کے خلاف درخواست پرعبوری حکم جاری کرتے ہوئے جنگ زدہ غزہ کے شہریوں کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے کو کہا تھا۔ تاہم عدالت کی جانب سے جنگ بندی کا حکم نہیں دیا گیا۔

حماس کے سیاسی بیوروکے سربراہ اسمٰعیل ہانیہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی ایسے اقدام پر بات چیت کے لئے تیارہے، جو فلسطینی مزاحمت کومستقبل کے انتظامات سے باہرکئے بغیرجنگ کو روکنے کا باعث بنے۔