دہشت گردی کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کے بعد اب ہندوستان نے سفارتی محاذ پر پاکستان کی حقیقت دنیا پر ظاہر کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ مرکزی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے جھوٹ اور دہشت گردانہ نیٹورک کو بے نقاب کرنے کے لیے خصوصی کثیر پارٹی پارلیمانی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سبھی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل 7 وفود تشکیل دی گئی ہیں، جن میں سے ایک ٹیم کی قیادت تجربہ کار کانگریس رکن پارلیمنٹ اور خارجی امور کے ماہر ڈاکٹر ششی تھرور کے سپرد کی گئی ہے۔ ششی تھرور، جو اقوام متحدہ میں اعلیٰ عہدہ پر خدمات انجام دے چکے ہیں، بین الاقوامی سفارت میں ہندوستان کی طرف سے ایک مضبوط آواز تصور کیے جاتے ہیں۔ حکومت ہند کے ذریعہ تشکیل ساتوں وفود مختلف ممالک میں جا کر وہاں کی حکومتوں، تھنک ٹینک اور میڈیا سے گفتگو کرے گی اور بتائے گی کہ کس طرح پاکستان لگاتار دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ خصوصاً 11/26 حملے، پلوامہ اور حال ہی میں پہلگام کے بیسرن وادی میں ہوئے بے قصور سیاحوں پر حملے جیسے معاملوں کو ترجیحی بنیاد پر سامنے رکھا جائے گا۔
اس خبر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے آچاریہ پرمود کرشنم نے حزب مخالف کے لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دراصل ششی تھرور کے انتخاب پر کانگریس نے اعتراض کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ہم نے جو نام وفد کے لیے پیش کیے اس کے برعکس ششی تھرور کا انتخاب بی جے پی کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔
آچاریہ پرمود کرشنم نے کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کو ایک ٹوئٹ میں “راشٹربھکت” (محب وطن) لیڈر قرار دیا۔ ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ ششی تھرور ایک “راشٹربھکت” رہنما ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی “راشٹربھکتوں کا احترام کرنا جانتے ہیں”۔
कांग्रेस “सांसद”@ShashiTharoor एक “राष्ट्र भक्त”
नेता हैं, और PM @narendramodi राष्ट्र भक्तों का “सम्मान” करना जानते हैं. @KirenRijiju @PMOIndia— Acharya Pramod (@AcharyaPramodk) May 17, 2025
یہ بیان سوشل میڈیا پر سیاسی گہماگہمی کے دوران سامنے آیا ہے، جب دونوں بڑی جماعتیں، بی جے پی اور کانگریس، عام انتخابات کے ماحول میں اپنی اپنی حکمت عملیوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ ٹوئٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بیان کس کی طرف سے ہے، لیکن اس نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کے سینئر لیڈر کے لیے اس طرح کے کلمات سیاسی ماحول میں نرمی اور باہمی احترام کا عندیہ بھی دے سکتے ہیں، جو حالیہ کشیدہ بیانات کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ آپریشن سندور اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی مستقل لڑائی سے متعلق جانکاری دینے کے لیے 7 کُل جماعتی نمائندہ وفد اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے اراکین سمیت اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جو 7 وفود تشکیل دی گئی ہیں، ان کی قیادت ششی تھرور (کانگریس)، روی شنکر پرساد (بی جے پی)، سنجے کمار جھا (جنتا دل یو)، بیجینت پانڈا (بی جے پی)، کنی موژی کروناندھی (ڈی ایم کے)، سپریا سولے (این سی پی) اور شریکانت ایکناتھ شندے (شیوسینا) کو سونپی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
