Bharat Express DD Free Dish

CMD Upendra Rai Shares his Experience of 26/11 Mumbai Terror Attack: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے نے شیئر کئے 26/11 ممبئی حملے کے اپنے تجربے، تہور رانا کی حوالگی کو اسٹریٹجک جیت قرار دیا

اپیندر رائے نے تہور رانا کے ہندوستان حوالگی کو ایک بڑی حصولیابی بتاتے ہوئے کہا ”میں اسے ابھی تک کی سب سے بڑی اسٹریٹجک جیت مانتا ہوں۔ اس کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکبا دینا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے وزیرداخلہ کے کام کرنے کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ نے ذاتی طور پراس معاملے کو سپروائز کیا اور ہندوستانی ایجنسیوں نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اسے انجام تک پہنچایا۔

بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اورایڈیٹراِن چیف اپیندر رائے نے حال ہی میں 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے دوران اپنے ذاتی تجربے کو شیئرکیا۔ اس خطرناک حادثہ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کیسے وہ اس اوبرائے ہوٹل میں موجود تھے اور محض آدھے گھنٹے پہلے وہاں سے نکل گئے تھے، جس کے سبب ان کی جان بچ گئی تھی۔ اپیندر رائے اس وقت اسٹار نیوز کے لئے ایک صحافی کے طور پر کام کرتے ہوئے جائے حادثہ سے مسلسل رپورٹنگ کی تھی۔

انہوں نے اپنے تجربات شیئرکرتے ہوئے بتایا کہ 26 نومبر 2008 کو وہ ریلائنس کے سینئرافسر سندیپ ٹنڈن سے ویلویٹیئر کلب میں ملے تھے۔ کھانے سے انکار کرنے کے ان کے فیصلے نے ان کی زندگی بدل دی کیونکہ اس کے کچھ دیر بعد وہاں حملہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد تین دنوں تک وہ اوبرائے، تاج، گیٹ وے آف انڈیا اور لیوپولڈ کیفے جیسے مقامات پر رپورٹنگ کرتے رہے۔ انہوں نے اس ماحول کو ”ڈراور سنسنسی آمیز بتایا۔“

ایک صحافی کی آنکھوں دیکھی کہانی

اپیندر رائے نے تہور رانا کے ہندوستان حوالگی کو ایک بڑی حصولیابی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں اسے ابھی تک کی سب سے بڑی اسٹریٹجک جیت مانتا ہوں۔ اس کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکبا دینا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے وزیرداخلہ کے کام کرنے کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ نے ذاتی طور پراس معاملے کو سپروائز کیا اور ہندوستانی ایجنسیوں نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اسے انجام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ 26/11 کے حملے کے دوران امریکی ایجنسیوں نے ہندوستان کو سیٹلائٹ فون کے ذریعہ دہشت گردوں کے رابطے کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستانی ایجنسیوں بالخصوص نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے امریکہ کے کئی دورے کئے اورانتھک کوششوں سے یہ حوالگی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا، “یہ بھی ہندوستان اورامریکہ کے مضبوط تعلقات کا ثبوت ہے۔ ہماری ایجنسیوں نے ڈوزیئرکے بعد ڈوزیئرتیارکیا اور بہت محنت کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج دہشت گردوں میں خوف کا ماحول ہے۔”

دہشت گردی اور تبدیلی پر زیرو ٹالرنس
اوپیندر رائے نے 26/11 کے بعد ہندوستان میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی پربھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، “پہلے میں نے اپنے خاندان کوشاپنگ مالزیا لاجپت نگرنہیں بھیجا کیونکہ وہاں بم دھماکوں کا خدشہ تھا، لیکن 2014 کے بعد حکومت نے انٹیلی جنس اورانفورسمنٹ ایجنسیوں کومضبوط کیا۔ افرادی قوت میں اضافہ کیا گیا، جدید ترین آلات فراہم کیے گئے، اوراس کے نتیجے میں اب ملک میں بم نہیں پھٹتے۔ یہ ایک گہری تبدیلی ہے۔”

میڈیا کی کیا ہے ذمہ داری؟

میڈیا کے کردار پر اپیندررائے نے زور دے کر کہا کہ سنسنی پھیلانے کے بجائے حقائق کو سامنے لانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا مذہب ہے کہ وہ لوگوں کو صحیح جانکاری دے، انہیں بیدار کرے۔ ہمیں محب وطن بن کرتہور رانا کی حوالگی کو دیکھنا چاہئے۔ سلیپرسیل کے سوال پرانہوں نے کہا کہ وقت گزارنے کے سبب اب ان کا کردار کم ہوسکتا ہے، لیکن تہور رانا سے پوچھ گچھ میں کئی انکشاف ہوسکتے ہیں۔ ”ہوسکتا ہے کہ کوئی سفید پوش بے نقاب ہو یا حملے کی پوری سازش کا پتہ چلے۔ تہور رانا کو اب سچ بتانا ہی ہوگا۔“ اپیندررائے نے اس وقت کی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ این ایس جی کمانڈوز کو ممبئی پہنچنے میں 48 گھنٹے لگے، جو اس وقت کی سرکاری تیاریوں کی کمی کو ظاہرکرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”موجودہ حکومت کی مستعدی اس سے کہیں بہتر ہے۔“

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read