Bharat Express DD Free Dish

Tahawwur Rana

26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ تہور رانا نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اُسے نجی وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے اُس نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اُسے اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت کی بھی اجازت دی جائے۔ …

این آئی اے کے مطابق رانا سے دورانِ حراست کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن کی تصدیق کے لیے امریکا کو قانونی معاونت کی درخواستیں بھیجی گئی ہیں۔

تہور رانا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی شہری ہونے کے ناطے یہ اس کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ سے بات کرے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے تشکیل دی گئی ٹیم RC-04/2009 NIA/DLI کیس سے متعلق مقدمے اور دیگر معاملات کی نچلی عدالت، NIA کورٹ، دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیروی کرے گی۔

26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے ملزم تہورحسین رانا کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی حراست کی مدت پوری ہونے کے بعد آج پیر(28 اپریل) کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران این آئی اے کی ٹیم نے عدالت سے تہوررانا کی 12 دنوں کی حراست مانگی، جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے تہوررانا کو 12 دنوں کی این آئی اے ریمانڈ پربھیج دیا۔

ممبئی حملے 26 نومبر 2008 کو ہوئے تھے،  جب 10 دہشت گردوں نے تاج ہوٹل، اوبرائے ٹرائیڈنٹ، چھترپتی شیواجی ٹرمینس اور نریمن ہاؤس سمیت کئی مقامات پر حملہ کیا۔ اس حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رانا پر لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

ممبئی 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور حسین رانا نے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

جانچ ایجنسی کواس بات کا خدشہ ہے کہ تہوررانا نے ہندوستان کے کئی شہروں کونشانہ بنانے کے لئے 26/11 ممبئی حملوں جیسی دہشت گردانہ سازش کی تھی۔ وہ جانچ میں تعاون نہیں کررہا ہے۔

اس حملے میں دیویکا روٹاوان کا بیان قصاب کے خلاف بہت اہم ثابت ہوا۔ قصاب کو ممبئی کی ایک عدالت نے مجرم قرار دیا تھا اور اسے 2012 میں پھانسی دی گئی تھی۔

ممبئی کے26/11 کے ملزم تہوررانا کے ہندوستان حوالگی کے بعد این آئی اے نے اسے گرفتارکرلیا۔ اجیت پوارنے کہا کہ انہیں تہوررانا سے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ اورحملے کی وجوہات کا پتہ لگنے کی امید ہے۔