Bharat Express DD Free Dish

26/11 Mumbai attack

2025 میں جب ہم اس واقعے کی 17ویں برسی پر پیچھے دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ابھی بھی مکمل نہیں ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے لشکر طیبہ کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

 ممبئی حملے پربیان دینے کے بعد سابق مرکزی وزیرپی چدمبرم کانگریس میں ہی گھرگئے ہیں۔ پارٹی کے سینئرلیڈرراشد علوی نے کہا ہے کہ پی چدمبرم 16 سال بعد بیان کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی وقت استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا تھا۔

چدمبرم نے بتایا کہ وہ وزارت خزانہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کپ میں خوش تھا کہ وزیر خزانہ کے طور پر اپنی میعاد مکمل کروں۔ میں نے پانچ بجٹ پیش کیے تھے اور اپریل 2009 میں انتخابات ہونے والے تھے، مگر بتایا گیا کہ پارٹی نے فیصلہ کر لیا ہے۔

26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ تہور رانا نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اُسے نجی وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے اُس نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اُسے اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت کی بھی اجازت دی جائے۔ …

آپ کو بتادیں کہ 26/11 کے ممبئی حملے 10 پاکستانی دہشت گردوں نے کیے تھے۔ انہوں نے تاج اور اوبرائے ہوٹل، چھترپتی شیواجی ٹرمینس اور یہودی مرکز نریمان ہاؤس سمیت کئی مشہور مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں 166 بے گناہ لوگ مارے گئے تھے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے تشکیل دی گئی ٹیم RC-04/2009 NIA/DLI کیس سے متعلق مقدمے اور دیگر معاملات کی نچلی عدالت، NIA کورٹ، دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیروی کرے گی۔

26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے ملزم تہورحسین رانا کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی حراست کی مدت پوری ہونے کے بعد آج پیر(28 اپریل) کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران این آئی اے کی ٹیم نے عدالت سے تہوررانا کی 12 دنوں کی حراست مانگی، جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے تہوررانا کو 12 دنوں کی این آئی اے ریمانڈ پربھیج دیا۔

ممبئی حملے 26 نومبر 2008 کو ہوئے تھے،  جب 10 دہشت گردوں نے تاج ہوٹل، اوبرائے ٹرائیڈنٹ، چھترپتی شیواجی ٹرمینس اور نریمن ہاؤس سمیت کئی مقامات پر حملہ کیا۔ اس حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رانا پر لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

جیل میں تہور رانا کو باقی قیدیوں کی طرح ہی رکھا گیا ہے، اسے الگ سے کوئی خاص سہولت نہیں دی گئی ہے۔ تہور رانا کو دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

اس حملے میں دیویکا روٹاوان کا بیان قصاب کے خلاف بہت اہم ثابت ہوا۔ قصاب کو ممبئی کی ایک عدالت نے مجرم قرار دیا تھا اور اسے 2012 میں پھانسی دی گئی تھی۔