Bharat Express DD Free Dish

Chairman Upendra rai

بابو گیندا سنگھ 1905 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1942 کی ہندوستان چھوڑو تحریک میں سرگرم تھے اور سودیشی کو فروغ دیا۔ وہ 1952 میں ایم ایل اے بنے، پھر ممبر پارلیمنٹ اور وزیر رہے۔ ان کا انتقال 1985 میں ہوا۔ یہ اجتماع ان کی وراثت کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش تھی،

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپندر رائے آج کُشی نگر میں بابو گیندا  سنگھ کی خراجِ عقیدت تقریب میں شریک ہوئے۔ بابو گیندا  سنگھ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’وہ وقت سے بھی آگے دیکھنے والے تھے۔‘‘

غازی پور لٹریچر فیسٹیول کے سیشن ’جڑوں کی طرف‘ میں بھارت ایکسپریس کے CMD اور ایڈیٹر-ان-چیف اوپنندر رائے نے اپنی زندگی کی اَن کہی کہانیاں، کتابوں سے حاصل شدہ سبق اور والدین کی تربیت کا ذکر کر کے سب کو مسحور کر دیا۔

اپیندر رائے نے تہور رانا کے ہندوستان حوالگی کو ایک بڑی حصولیابی بتاتے ہوئے کہا ”میں اسے ابھی تک کی سب سے بڑی اسٹریٹجک جیت مانتا ہوں۔ اس کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکبا دینا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے وزیرداخلہ کے کام کرنے کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ نے ذاتی طور پراس معاملے کو سپروائز کیا اور ہندوستانی ایجنسیوں نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اسے انجام تک پہنچایا۔

’نئے بھارت کی بات ، دہلی کے ساتھ‘کا انعقاد ۔ کانکلیو کا آغاز صبح 11 بجے شروع ہوچکا ہے، جس میں سیاست اور دیگر شعبوں کی دنیا کی کئی نامور شخصیات شرکت کررہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس کے اس میگا کانکلیو کے پلیٹ فارم پر سیاست داں، پالیسی سازوں کے ساتھ ثقافتی شخصیات اور روحانی گرو بھی ہو ں گے ایک ساتھ

مثال دیتے ہوئے سی ایم ڈی اپیندر رائے نے کہا، ’’اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو گاڑی، سڑک اور منزل کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ گاڑی اور سڑک وسیلہ ہیں اور منزل ہدف ہے۔ اگر آپ ان دونوں کے درمیان الجھے رہے تو اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔‘‘

Oorja Akshara نے مزید کہا، "جس چیز نے مجھے آگے بڑھایا وہ صرف تبدیلی لانے کا خیال نہیں تھا۔ یہ کسی ایسے شخص کا آئیڈیا تھا، جسے ہمارے اجتماعی کام کی وجہ سے کہیں نہ کہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا تھا۔ میں لفظوں میں اس  کو بیان نہیں کرسکتی،

اتراکھنڈ کے سلور جبلی کے موقع پربھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کی طرف سے ایک میگا کانکلیو کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس میں اتراکھنڈ کی اہم ہستیاں شرکت کر رہی ہیں۔

آیوروید سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا، 'ہمارا مقصد کام کرنا ہے۔ جو سامنے ہے وہ دنیا کو نظر آتا ہے اور پیچھے کی جو  توانائی نظر نہیں آتی۔ کسی عمارت کو دیکھ کر اس کی بنیاد یا مضبوطی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔