Bharat Express DD Free Dish

mumbai terror attack

 ممبئی حملے پربیان دینے کے بعد سابق مرکزی وزیرپی چدمبرم کانگریس میں ہی گھرگئے ہیں۔ پارٹی کے سینئرلیڈرراشد علوی نے کہا ہے کہ پی چدمبرم 16 سال بعد بیان کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی وقت استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا تھا۔

26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے ملزم تہورحسین رانا کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی حراست کی مدت پوری ہونے کے بعد آج پیر(28 اپریل) کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران این آئی اے کی ٹیم نے عدالت سے تہوررانا کی 12 دنوں کی حراست مانگی، جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے تہوررانا کو 12 دنوں کی این آئی اے ریمانڈ پربھیج دیا۔

ممبئی کے 26/11 دہشت گردانہ حملے کے اہم سازش کرنے والوں میں سے ایک تہوررانا جمعرات کی شام 6:22 بجے دہلی کے ایئرپورٹ پراترا۔ 10 منٹ بعد ہی این آئی اے نے اسے یواے پی اے کے تحت گرفتار کرلیا۔ اسے امریکی گلف اسٹریم جی-550 طیارہ کے ذریعہ دہلی کے پالم ٹیکنیکل ایئرپورٹ پرلایا گیا۔

اپیندر رائے نے تہور رانا کے ہندوستان حوالگی کو ایک بڑی حصولیابی بتاتے ہوئے کہا ”میں اسے ابھی تک کی سب سے بڑی اسٹریٹجک جیت مانتا ہوں۔ اس کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکبا دینا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے وزیرداخلہ کے کام کرنے کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ نے ذاتی طور پراس معاملے کو سپروائز کیا اور ہندوستانی ایجنسیوں نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اسے انجام تک پہنچایا۔

تہوررانا سے متعلق قومی تفتیشی ایجنسی امریکہ سے روانہ ہوگیا ہے۔ اسے خصوصی طیارہ کے ذریعہ ہندوستان لایا جا رہا ہے۔ تہوررانا ممبئی میں ہوئے 26/11 دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہے۔ اسے امریکہ سے ہندوستان کے حوالہ کردیا گیا ہے۔ تہور رانا پاکستانی نژاد کا کناڈائی شہری ہے، جس کے آئی ایس آئی کے ساتھ گہرے رشتے رہے ہیں۔

تہور رانا کوسب سے پہلے این آئی اے 26/11 حملے سے متعلق درج اپنے کیس میں گرفتارکرے گی۔ اسے این آئی اے کے ہیڈ کوارٹرلے کرجایا جائے گا، جہاں اس کا میڈیکل ٹسٹ ہوگا۔ اس کے بعد تہوررانا کو عدالت میں پیش کرکے اس کی ریمانڈ مانگی جائے گی۔

ممبئی حملوں کے ملزم تہور رانا کو ہندوستان لانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ امریکی کورٹ نے اس کی عرضی خارج کردی، جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے ہندوستان بھیجا گیا تومیں وہاں زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکوں گا۔

اس سے قبل بھارتی وزارت خارجہ نے گزشتہ ماہ پاکستان سے حافظ سعید کی حوالگی کی درخواست کی تھی۔ اس پر ماہرین نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس قسم کی حوالگی کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے۔

جج فشر نے 18 اگست کے حکم نامے میں کہا کہ "امریکی عدالت برائے اپیل برائے نویں سرکٹ کے سامنے زیر التواء تہور رانا کی اپیل پر فیصلے تک ان کی ہندوستان حوالگی پر روک لگا دی گئی ہے۔"