Bharat Express DD Free Dish

’بین الاقوامی دباؤ‘ سے متعلق بیان پرپھنس گئے پی چدمبرم، راشد علوی نے سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا- تب کیوں نہیں دیا تھا استعفیٰ؟

 ممبئی حملے پربیان دینے کے بعد سابق مرکزی وزیرپی چدمبرم کانگریس میں ہی گھرگئے ہیں۔ پارٹی کے سینئرلیڈرراشد علوی نے کہا ہے کہ پی چدمبرم 16 سال بعد بیان کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی وقت استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا تھا۔

بریلی تشدد میں شامل ہونے کے الزام میں دو ملزمین کا پولیس نے انکاؤنٹر کیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئرلیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے منگل کو ممبئی حملے سے متعلق ایک بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت کی یوپی اے حکومت نے حملے کے بعد بین الاقوامی دباؤ کے سبب پاکستان پرجوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے اس بیان پر ان کی ہی پارٹی کے لیڈر راشد علوی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چدمبرم 16 سال بعد ایسا بیان کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے تب استعفیٰ کیوں نہیں دیا تھا۔

راشد علوی نے کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امریکی دباؤ میں کام کررہے تھے۔ ایسے بیان سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا۔ پی چدمبرم 16 سال بعد یہ دعویٰ کیوں کررہے ہیں؟ اگر اس وقت وہ متفق نہیں تھے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ کانگریس کے اندر کئی لوگ پارٹی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے اپنے ہی چراغ سے گھر میں آگ لگ جائے۔

پی چدمبرم نے کیا کہا تھا؟

کانگریس کے سینئرلیڈرپی چدمبرم نے ایک پاڈ کاسٹ میں کہا کہ وہ ذاتی طورپرخوفناک دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کے حق میں تھے، لیکن اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت نے پڑوسی ملک کے خلاف سفارتی اقدامات کے استعمال کے لیے وزارت خارجہ کے نقطہ نظرکوآگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت طاقتور ممالک چاہتے ہیں کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ جنگ ​​سے گریزکرے۔ پی چدمبرم کو 26 نومبر2009 کے دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد وزیرداخلہ مقررکیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ وزیرخزانہ تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read