Bharat Express DD Free Dish

UPA government

سال 2008 میں طے پانے والا بھارت-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدہ ایک بار پھر سیاسی اور اسٹریٹجک بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سال 2009 کے ایک امریکی سرکاری دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا اس وقت کی UPA حکومت نے بھارت کے سِول نیوکلیئر پروگرام کو بین الاقوامی ادارے IAEA کی مستقل نگرانی میں دے کر ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا تھا۔

بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

 وزیراعظم نے کانگریس سے کہا کہ وہ یہ واضح  کریں کہ کس نے سیکورٹی فورسز کو غیر ملکی اثر و رسوخ کے تحت پاکستان پر حملہ کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا، یہ قوم کو جاننے کا حق ہے۔

 ممبئی حملے پربیان دینے کے بعد سابق مرکزی وزیرپی چدمبرم کانگریس میں ہی گھرگئے ہیں۔ پارٹی کے سینئرلیڈرراشد علوی نے کہا ہے کہ پی چدمبرم 16 سال بعد بیان کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی وقت استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا تھا۔

یو پی اے کے دور حکومت میں، نہرو کے ذاتی خطوط 51 ڈبوں میں پیک کر کے سونیا گاندھی کو بھیجے گئے تھے۔ نہرو نے یہ خطوط ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن، البرٹ آئن اسٹائن، جے پرکاش نارائن، پدمجا نائیڈو، وجئے لکشمی پنڈت، ارونا آصف علی، بابو جگجیون رام اور گووند بلبھ پنت وغیرہ کو لکھے تھے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ ایم ایس سوامی ناتھن نے کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے اور زراعت میں پیداوار بڑھانے کے لیے کئی سفارشات دی تھیں۔ اس کمیٹی نے سال 2006 میں اپنی رپورٹ یو پی اے حکومت کو سونپی تھی۔

یکم فروری کو عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا تھا کہ ملک کے لوگ مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پی ایم مودی کی قیادت میں ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے۔

مودی حکومت کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے 10 سال کی معاشی بدانتظامی کے بارے میں پارلیمنٹ میں وائٹ پیپر لانے جا رہی ہے۔

Waqf Property: یوپی اے حکومت کے دورمیں دہلی کی جامع مسجد کو مرکز نے وقف بورڈ کی نگرانی میں دے دیا تھا۔ وزارت برائے شہری ترقیات نے اب اسے پھر سے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب پی ایم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے اپنے اقتدار کے نو سال مکمل کر لیے ہیں اور آئندہ سال پھر سے عام انتخابات کا سامنا ہونے والا ہے۔