ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ تہور رانا این آئی اے کی 12 دنوں کی حراست میں بھیجا گیا۔
نئی دہلی: ممبئی کے 26/11 حملے کا اہم ملزم تہور رانا امریکہ سے ہندوستان لایا گیا ہے۔ تہور رانا کو خصوصی طیارہ سے اسے پالم ایئرپورٹ لایا گیا ہے۔ اس ہائی پروفائل دہشت گرد کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایئرپورٹ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ SWAT کمانڈو کی ٹیم ایئرپورٹ پرتعینات ہے۔ اب اسے ایئر پورٹ سے باہرنکلتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔ اس کی گرفتاری کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ایئرپورٹ کے باہرسیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ موقع پربم اسکواڈ کی ٹیمیں بھی ہیں۔ ایمبولینس کی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔ عدالت میں پیش کرنے سے پہلے اس کا میڈیکل ٹسٹ کرایا جائے گا۔
این آئی اے کرے گی گرفتاری
تہور رانا کوسب سے پہلے این آئی اے 26/11 حملے سے متعلق درج اپنے کیس میں گرفتارکرے گی۔ اسے این آئی اے کے ہیڈ کوارٹرلے کرجایا جائے گا، جہاں اس کا میڈیکل ٹسٹ ہوگا۔ اس کے بعد تہوررانا کو عدالت میں پیش کرکے اس کی ریمانڈ مانگی جائے گی۔ دہلی کے پالم ایئرپورٹ سے زبردست سیکورٹی کے درمیان اس کی گرفتاری ہوگی۔ دہلی پولیس کی کئی گاڑیاں تہور رانا کے قافلے کو اسکاٹ کریں گی۔ رانا ایئرپورٹ سے بلیٹ پروف گاڑی میں جائے گا۔
166 افراد کی گئی تھی جان
تہور رانا پاکستانی نژاد کناڈائی شہری ہے اور2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے اہم سازش کرنے والوں میں سے ایک امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کا قریبی ہے۔ 26 نومبر 2008 کو10 پاکستانی دہشت گردوں کے ایک گروپ نے ممبئی میں ایک ریلوے اسٹیشن، دو ہوٹلوں پر، ایک یہودی مرکز پر حملہ کیا تھا۔ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں 6 امریکیوں سمیت کل 166 لوگ مارے گئے تھے۔ ان حملوں کو10 پاکستانی دہشت گردوں نے انجام دیا تھا۔ اس معاملے میں نومبر 2012 میں پاکستان کے دہشت گرد اجمل قصاب کو پنے کی یرودا جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ہندوستان کئی سالوں سے تہوررانا کی حوالگی کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ اس کے لشکرطیبہ اور ہیڈلی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ تہوررانا نے امریکہ میں دستیاب سبھی قانونی متبادل کا استعمال کیا، لیکن اسے ہرجگہ سے جھٹکا ملا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا تھا اعلان
فروری میں وہائٹ ہاؤس میں وزیراعظم کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے دنیا کے سب سے برے شخص تہوررانا کو ہندوستان میں انصاف کا سامنے کرنے کے لئے حوالگی کی منظوری دے دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


