مایاوتی نے عمر عبداللہ کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
Jammu Kashmir Assembly Election 2024: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں وکشمیرمیں الیکشن کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جموں وکشمیرمیں سیاسی ہلچل کافی تیزہوگئی ہے۔ اسی ضمن میں نیشنل کانفرنس کے لیڈرعمرعبداللہ نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کوجموں وکشمیرالیکشن میں اتحاد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ ذرائع کے مطابق، پتہ چلا ہے کہ عمرعبداللہ کی تجویز مایاوتی نے مسترد کردی ہے۔
دراصل، ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق، جموں وکشمیر میں ہونے والے اسمبلی الیکشن سے متعلق نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمرعبداللہ نے بی ایس پی کی اعلیٰ قیادت سے آئندہ اسمبلی الیکشن کے لئے اتحاد کے لئے بات کی تھی۔ مگرکانگریس کے ساتھ عمرعبداللہ کی بات چیت کے سبب مایاوتی نے واضح طور پرانکارکردیا۔
بی ایس پی نے 31.65 فیصد ووٹ حاصل کرکے چونکایا
واضح رہے کہ 2014 کے اسمبلی الیکشن میں کٹھوعہ اسمبلی سیٹ پر31.65 فیصد ووٹ حاصل کرکے بی ایس پی سبھی پارٹیوں کوحیران کرچکی ہے۔ بی ایس پی کو سال 1996 کے الیکشن میں جموں وکشمیرمیں چارسیٹوں پراور2002 میں ایک سیٹ پرکامیابی حاصل ہوئی تھی۔
جموں وکشمیرمیں تین مرحلوں میں ہونے ہیں الیکشن
دراصل، جموں وکشمیرمیں 90 اسمبلی سیٹیں ہوں گی۔ یہ حد بندی کے بعد کی سیٹیں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ جموں وکشمیراسمبلی الیکشن میں اس بارتین سیٹیں بڑھائی گئی ہیں۔ گزشتہ بارجموں وکشمیراسمبلی الیکشن میں 87 سیٹیں تھیں۔ راجیو کمار نے کہا کہ جموں وکشمیرکی 90 سیٹوں میں سے 74 جنرل ہیں۔ وہیں، درج فہرست قبائل کے لئے 9 اوردرج فہرست ذات کے لئے 7 نشستیں ہیں۔ جبکہ انتخابی نتائج 4 اکتوبرکواعلان کئے جائیں گے۔
جموں وکشمیر میں کانگریس اورنیشنل کانفرنس میں الائنس
کانگریس اورنیشنل کانفرنس جموں وکشمیراسمبلی الیکشن مل کرلڑیں گی۔ جمعرات، 22 اگست کو راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے اس کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی سبھی 90 سیٹوں پردونوں پارٹیاں ایک ساتھ لڑیں گی۔ اس دوران کانگریس نے کشمیر میں 12 سیٹوں کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی جموں میں نیشنل کانفرنس کو اتنی ہی سیٹیں دینے کی پیشکش کی۔
بھارت ایکسپریس–
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



