اترپردیش میں مدارس کوملنے والے مبینہ غیرملکی چندے اورنامعلوم ذرائع سے ہونے والی آمدنی کے الزام سے متعلق اے ٹی ایس (انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ) کی جانچ پرروک لگانے کی درخواست الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد تحقیقات میں تیزی آنے کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ریاست میں چل رہے تقریباً چارہزارتسلیم شدہ اورغیرتسلیم شدہ مدارس کے بارے میں حکومت کوشکایات موصول ہوئی تھیں کہ انہیں نامعلوم ذرائع اوربیرونِ ملک سے مالی امداد مل رہی ہے۔ اس کے بعد حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔
17 دسمبر2025 کواے ٹی ایس کے آئی جی کی صدارت میں ہونے والی ایک میٹنگ میں تین اہم نکات پرتحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں 9 جنوری 2026 کو محکمہ اقلیتی بہبود کے اُس وقت کے ڈائریکٹرانکت کماراگروال نے تمام ضلعی اقلیتی بہبود افسران (ڈی ایم او) کوہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کی جانچ اے ٹی ایس کررہی ہے، اس لئے مدرسہ منتظمین کے بینک کھاتوں میں ہونے والے لین دین کی تصدیق کرائی جائے۔
مدارس کی تعمیرمیں استعمال ہونے والے مالی وسائل کی بھی ہوگی جانچ
ہدایت نامہ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بعض مدارس مستقل آمدنی کے ذرائع نہ ہونے کے باوجود بڑی عمارتوں میں چل رہے ہیں، لیکن ان عمارتوں کی تعمیرکے لئے استعمال ہونے والے مالی وسائل کے بارے میں منتظمین واضح معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں۔ ایسے معاملات کی گہرائی سے جانچ کی جائے اورمقامی ذرائع و خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے مبینہ غیرملکی فنڈنگ کی معلومات جمع کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ اسی دوران اے ٹی ایس کی مختلف یونٹوں نے ضلعی اقلیتی بہبود افسران سے اپنے اپنے اضلاع کے مدارس کی تعداد، طلبہ کے نام، موبائل نمبراورمستقل پتوں کی تفصیلات بھی طلب کرنا شروع کردی تھیں۔
اے ٹی ایس کی جانچ پرروک لگانے کی درخواست
تحقیقات میں تیزی آنے کے بعد مدرسہ مینجمنٹ کمیٹی اورمدرسہ ٹیچرایسوسی ایشن نے 11 فروری کوالہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ میں عرضی دائرکرتے ہوئے اے ٹی ایس کی جانچ پرروک لگانے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے دوران تحقیقات پرعبوری روک نہیں لگائی، تاہم حکومت اوراے ٹی ایس کونوٹس جاری کیا تھا، جس کے بعد تحقیقات کی رفتارکچھ سست پڑگئی تھی۔ یکم جولائی کوالہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس وویک سرن اورجسٹس نیرج تیواری پرمشتمل ڈویژن بنچ نے مدرسہ منتظمین کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ دستیاب حقائق کودیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تحقیقات درخواست گزاروں کے خلاف زبردستی کی کارروائی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اے ٹی ایس حکام کا کہنا ہے کہ جانچ کبھی بند نہیں ہوئی تھی، تاہم اب اس میں مزید تیزی لائی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




