Bharat Express DD Free Dish

UP Madrasas

اے پی سی آر الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے اورامید ظاہرکرتی ہے کہ عدلیہ آئندہ بھی مشکل حالات میں انصاف کے متلاشی افراد اور اداروں کے لیے مؤثر قانونی سہارا فراہم کرتی رہے گی۔ اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ غیر قانونی، من مانے یا امتیازی نوعیت کی سرکاری کارروائیوں سے متاثرہ افراد اور اداروں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

مدرسہ مینجمنٹ کمیٹی اورمدرسہ ٹیچرایسوسی ایشن نے 11 فروری کوالہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ میں عرضی دائرکرتے ہوئے اے ٹی ایس کی جانچ پرروک لگانے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے دوران تحقیقات پرعبوری روک نہیں لگائی، تاہم حکومت اوراے ٹی ایس کونوٹس جاری کیا تھا، جس کے بعد تحقیقات کی رفتارکچھ سست پڑگئی تھی۔ یکم جولائی کوالہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس وویک سرن اورجسٹس نیرج تیواری پرمشتمل ڈویژن بنچ نے مدرسہ منتظمین کی درخواست مسترد کردی۔

شکایت کنندہ طلحہ انصاری نے بتایا کہ بلرام پور میں تین امداد یافتہ مدارس مدرسہ عائشہ صدیقہ، مدرسہ دارالعلوم فاروقیہ اور مدرسہ فضل رحمانیہ میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت تقریباً آٹھ کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام سامنے آیا تھا۔

حکام کے مطابق جانچ کے دائرے میں کئی اہم پہلو شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ مدارس کو دی گئی سرکاری رقم کس طرح خرچ کی گئی۔ اس کے علاوہ کھانے کی تقسیم کا نظام، بچوں کی اصل تعداد اور مستفید ہونے والوں کے ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کہیں فرضی طلبہ کے نام پر فنڈز جاری کیے گئے ہوں گے تو اس کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔

یوپی اے ٹی ایس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ کچھ خفیہ معلومات موصول ہوئی ہیں، جن میں چند مدارس میں مشکوک سرگرمیوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، اس لیے قومی سلامتی کے پیشِ نظر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیادہ تر مدارس اچھا کام کر رہے ہیں اور یہ صرف جانچ کا عمل ہے، لیکن کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔

جمعیۃعلماء ہند نے اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ’کل ہند تحفظ مدارس کنونشن‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں مسالک سے بالاتر ہو کر مدارس کے ذمہ داران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مختلف سرکردہ قائدین ملت نے بہ یک زبان فیصلے پر اظہار مسرت کے ساتھ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک ایسا پائیدار اور تاریخ ساز فیصلہ ہے، جس سے مسلم مدارس اور مسلم اقلیت کی لاچارگی کو مدت دراز تک تقویت فراہمی کے علاوہ اداروں کی آئینی سیرابی کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

جمعیۃ علماء ہند جدید تعلیم کوفروغ دینے کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی اوایس) سے منسلک جمعیۃ اسٹڈی سینٹرچلا رہی ہے، جہاں 15 ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کوروایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مضامین کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ جب تک مدارس حق تعلیم کے قانون پر عمل نہیں کرتے، انہیں دیے جانے والے فنڈز کو روک دیا جانا چاہیے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 22 مارچ 2024 کو یوپی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2004 کو غیر آئینی قراردیتے ہوئے مدرسہ نصاب میں شمولیت کی بنیادپرمدرسوں سے بچوں کواسکولوں میں شفٹ کرنے کا آرڈردے دیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی۔