نئی دہلی : بہار میں سیلاب کی صورتحال کے درمیان پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے چھپرا میں امدادی انتظامات کو لے کر حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ پپو یادو نے دعویٰ کیا کہ وہ 3 دن سے چھپرا میں موجود ہیں اور امدادی کاموں کے لیے انہیں 50 سے زیادہ جنریٹر لگانے پڑے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی علاقوں میں لوگوں کو ضروری سہولیات تک دستیاب نہیں ہو رہی ہیں۔پپو یادو نے کہا کہ چھپرا میں سیلاب کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کا مسئلہ ہے، جس کے باعث امدادی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے حالات میں مقامی رکن پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کہاں ہیں۔ پپو یادو چھپرا اور آس پاس کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان اور مالی مدد پہنچانے میں مصروف ہیں۔
’2-2 کروڑ روپے کے گھر گر گئے‘
رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ سیلاب کی وجہ سے کئی خاندانوں کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر 2-2 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے مکانات بھی گر گئے ہیں۔پو یادو نے یہ بھی الزام لگایا کہ کئی لوگ گزشتہ 5 دن سے کھانے کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے متاثرہ لوگوں تک فوری امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
#WATCH पटना, बिहार: पूर्णिया से निर्दलीय सांसद पप्पू यादव ने कहा, “… मैं 3 दिनों से छपरा में हूं… मुझे यहां 50 से ऊपर जनरेटर लगाने पड़े हैं। सांसद और विधायक कहां हैं? केंद्र को पता ही नहीं है कि छपरा में 17 और 20 के बाद कई अधिक भयावह स्थिति रही है… यहां 2-2 करोड़ के घर गिरे हैं… यहां पिछले 5 दिनों से लोग भूखे हैं। क्यों सब बिहारियों से नफरत करते हैं… असम में बाढ़ आई थी और वहां सभी लोगों ने मदद की थी… बिहार की मदद क्यों नहीं की गई?… पटना और दिल्ली को पता ही नहीं है कि छपरा डूब गया है। यह जल प्रलय है…”
— ANI_HindiNews (@AHindinews) October 4, 2026
پٹنہ اور دہلی کو پتہ ہی نہیں کہ چھپرا ڈوب گیا
پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹنہ اور دہلی کو زمینی صورتحال کی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے سیلاب کی صورتحال کو ’آبی قیامت‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ متاثرہ علاقوں میں مناسب انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔اس سے قبل بھی پپو یادو بہار میں سیلاب کے معاملے پر ریاستی اور مرکزی حکومت کی تیاریوں اور امدادی انتظامات پر سوال اٹھا چکے ہیں۔
لیڈر ذات پات کے نام پر ووٹ لیتے ہیں
پپو یادو نے الزام لگایا کہ بہار میں لیڈر ذات پات کے نام پر عوام سے ووٹ لیتے ہیں، لیکن قدرتی آفت کے وقت لوگوں کی مدد کے لیے مناسب انتظامات نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے لوگوں کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے اور دیگر ریاستوں میں سیلاب کے دوران جس طرح مدد کی جاتی ہے، اسی طرح بہار کو بھی مدد ملنی چاہیے۔پپو یادو نے کہا کہ لیڈر 4-5 کروڑ روپے کی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، لیکن انہیں عوام کی مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

