Bharat Express DD Free Dish

Bihar Flood

نیپال کے گورکھا ضلع میں بوڑھی گنڈک ندی میں اچانک شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی۔ 35 سے زیادہ مکانات اور کئی پل بہہ گئے، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری، بہار اور اتر پردیش میں بھی الرٹ جاری۔

پرشانت کشور نے بے روزگاری، نوجوانوں کی نقل مکانی اور ریاست میں سیلاب کی صورتحال کے معاملے پر حکومت پر سوال اٹھائے۔

پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹنہ اور دہلی کو زمینی صورتحال کی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے سیلاب کی صورتحال کو ’آبی قیامت‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ متاثرہ علاقوں میں مناسب انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔

چمپارن پشتے کے تین مقامات پر شگاف پڑنے سے بگہا میں سیلاب کی صورتحال سنگین، پپو یادو نے موقع پر پہنچ کر نقصان کا جائزہ لیا، پشتوں کی تعمیر اور نگرانی کے معیار پر اٹھائے سوال۔

نیپال کے پہاڑی اور ترائی علاقوں میں مسلسل بارش کے بعد بہار کے میدانی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا، مظفرپور کے کٹرا بلاک کے کئی گاؤں میں پانی داخل، 250 سے زائد خاندان متاثر، کئی علاقوں کا سڑک رابطہ منقطع

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین تک فوری راحت پہنچائی جائے، لیکن اب تک اس سمت میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

تیجسوی یادو نے بہار میں سیلاب کی صورتحال پر مرکز کو گھیرا، گجرات اور بہار کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا الزام۔

چمپارن میں ندیوں کی بڑھتی ہوئی آبی سطح کے حوالے سے وزیر نند کشور رام نے کہا کہ پانی کی سطح بڑھی ہے، لیکن درمیان میں اس میں کمی بھی آئی تھی۔ حکومت پوری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

نیپال سے آنے والے سیلابی پانی کو بغیر رکاوٹ نکالنے کے لیے گنڈک بیراج کے تمام 36 گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر کی قیادت میں ایک تکنیکی ٹیم بیراج پر مسلسل موجود ہے، جبکہ سارن پشتے سمیت دیگر حساس مقامات پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ نے منگل کے روز بہار اور ملک کی دیگر ریاستوں کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے 5,858.60 کروڑ روپے جاری کیے، تاکہ وہاں حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔ مرکزی وزیر امت شاہ نے خود اس سلسلے میں سوشل میڈیا ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا تھا۔