نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے ایس آئی آر کی کارروائی کے بعد انتخابی فہرستوں میں سنگین بے ضابطگیوں پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقص انتخابی فہرستوں کی بنیاد پرآئندہ اسمبلی انتخابات منعقد نہیں ہونے چاہئے۔ جماعت کے مرکزمیں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس میں سیاسی لیڈران اوراختلافِ رائے رکھنے والے افراد کونشانہ بنانے، موسمِ سرما کی تیاریوں اورفضائی آلودگی پرقابوپانے کے سرکاری اقدامات پربھی اظہارخیال کیا گیا۔ ایس آئی آراورآئندہ اسمبلی انتخابات کے تعلق سے گفتگوکرتے ہوئے ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی دیانت داری اورچیف الیکشن کمشنرگیانیش کمارکے طرزِعمل کے تعلق سے لوگوں میں سنگین قسم کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
خدشات کو دورکرنے کے بعد اسمبلی انتخابات 2027 کرانے کا مطالبہ
ندیم خان نے کہا کہ اگراترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اورمنی پورمیں آئندہ اسمبلی انتخابات ان خدشات کودورکئے بغیرہی کرائے گئے تویہ سابقہ انتخابات کی تاریخ دہرانے جیسا ہوگا، جن میں لاکھوں ووٹراپنے حقِ رائے دہی سے محروم رہ گئے تھے اورہزاروں فرضی ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں اعداد وشمارنہایت حیران کن ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اورمنی پورمیں خصوصی جامع نظرثانی سے قبل ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 18.71 کروڑ تھی، جوحتمی انتخابی فہرستوں میں گھٹ کر16.43 کروڑرہ گئی ہے۔ اس طرح تقریباً 2.29 کروڑووٹروں کی مجموعی کمی واقع ہوئی ہے، جو12.2 فیصد کے تقریباً ہے۔ اس کمی میں تقریباً 90 فیصد حصہ اترپردیش کا ہے، جہاں ووٹروں کی تعداد میں تقریباً 2.04 کروڑ(13.24 فیصد) کی کمی درج کی گئی ہے۔ دیگرریاستوں میں پنجاب میں تقریباً 14 لاکھ، اتراکھنڈ میں 8 لاکھ، منی پورمیں 1.3 لاکھ اور گوا میں 1.27 لاکھ ووٹروں کی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔
ووٹرلسٹ پردیانت داری کے ساتھ نظرثانی کی جائے: ندیم خان
ندیم خان نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں ووٹروں کوبے دخل کئے جانے کے بعد اب ضروری ہوگیا ہے کہ ووٹرفہرستوں پردیانت داری کے ساتھ نظرثانی کی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے کوئی بھی ووٹراپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ الیکشن کمیشن پرسے عوام کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ جب تک انتخابی عمل پرعوام کا اعتماد بحال نہیں ہوتا، آنے والے انتخابات کی ساکھ بری طرح متاثررہے گی۔ عوام کی جانب سے ظاہرکئے جا رہے خدشات کو انتخابات کے اعلان سے قبل ایک یا دو ماہ کے اندردورکیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنراس معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طورپراپنے عہدے سے استعفی دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر کی پوری کارروائی کا شفاف طریقے جائزہ لیا جائے، انتخابی فہرستوں سے خارج کئے گئے ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کئے جائیں ، نئے ناموں کا اندراج کیا جائے اورشکایتوں پرکی گئی کارروائیوں کی تفصیلات شائع کی جائیں ۔ندیم خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات مقررہ وقت پرہونے چاہئے، لیکن اس سے پہلے انتخابی فہرستوں سے متعلق تمام خدشات دور کئے جائیں اور عوام کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ انتخابی عمل منصفانہ، شفاف اور سب کی شمولیت والا ہے۔ سیاسی لیڈران اوراختلاف رائے رکھنے والوں کونشانہ بنائے جانے کے موضوع پرگفتگوکرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ جماعت اسلامی ہند سیاسی انتقام کے لیے مقدمات اورتفتیشی ایجنسیوں کے استعمال کی سخت مذمت کرتی ہے۔ پُرامن اختلاف رائے کی حوصلہ شکنی سے جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کوسخت نقصان پہنچ رہا ہے جس کا مقصد ہے کہ قانون کا اطلاق سب پریکساں اورمنصفانہ طریقے سے ہونا چاہئے۔
اعظم خان کی گرفتاری پرسلیم انجینئرنے اٹھایا سوال
پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ سینئرلیڈراعظم خان کی گرفتاری کا معاملہ کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کئے گئے، انہیں طویل عرصے سے جیل میں رکھا گیا اوران کی قائم کردہ محمد علی جوہریونیورسٹی کوسرکاری کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کی جانب سے ضمانت منظورکئے جانے کے بعد، جیل سے باہرنکلنے کے چند ہی منٹوں میں ای ڈی نے انہیں ایک دوسرے معاملے میں گرفتارکرلیا اورانہیں دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ اعظم خان کی گرفتاری کا معاملہ ایسے ہی سیاسی انتقامی کارروائیوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ ہے، جن کے ذریعے برسرِاقتدارافراد کوچیلنج کرنے والوں کونشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہئے، تاکہ اس بات کویقینی بنایا جاسکے کہ تفتیشی اداروں کے اختیارات کوسیاسی مخالفت کچلنے یا اختلاف رائے کوخاموش کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔موسم سرما کی تیاریوں اورفضائی آلودگی پرقابوپانے کے اقدامات کے تعلق سے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ جماعت اسلامی ہند مرکزی اورریاستی حکومتوں سے اپیل کرتی ہے کہ سردی سے عوام کومحفوظ رکھنے کے لیے بروقت اورمنظم اقدامات کئے جائیں۔ اس کے لئے تیاریوں کا آغازپہلے ہی ہوجانا چاہئے۔ حکومت کوچاہئے کہ رات میں قیام کے لئے رین بسیروں کی تعداد میں اضافہ کرے اورانہیں بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جائے، گرم کمبلوں اورکپڑوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، گرم کھانوں کا انتظام اورزیادہ خطرات والے علاقوں میں موبائل طبی یونٹس قائم کی جائے۔
جماعت اسلامی ہند موسم سرما میں ضرورت مندوں میں کرے گی کمبلوں کی تقسیم
پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ جماعت اسلامی ہند اپنی کوششوں اوروابستہ تنظیموں کے ذریعے ملک بھرمیں موسم سرما کے دوران امدادی سرگرمیاں انجام دیتی رہی ہے، جن میں ضرورت مندوں کوکمبلوں کی تقسیم اوردیگرامدادی سامان کی فراہمی شامل ہے۔ یہ امداد مذہب، ذات پات یا سماجی پس منظرکی تفریق کے بغیرفراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مقامی سطح پرامدادی سرگرمیوں میں تعاون کریں اوراپنے محلوں میں رہنے والے بزرگوں، تنہا زندگی گزارنے والے افراد اوربے گھرلوگوں کا خیال رکھیں۔ جماعت اسلامی ہند نے خطرناک فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کرنے، تعمیراتی کاموں سے پیدا ہونے والی گردوغباراورکچرا جلانے کے خلاف قوانین پرسختی سے عمل درآمد کرانے اورآلودگی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثراقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کویقینی بنایا جانا چاہئے کہ آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے سے پہلے عوام کوضروری معلومات فراہم ہوں، آلودگی کی نگرانی کا مؤثرنظام موجود ہو۔ بچوں، بزرگوں اورمختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے تحفظ کے لیے مناسب طبی وحفاظتی اقدامات کئے جائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




