نئی دہلی : اتر پردیش کے لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کے دفتر کے باہر لگایا گیا ایک پوسٹر نئی سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اس پوسٹر میں ایک جانب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی تصویر ہے، تو دوسری جانب بھگوان شری کرشن کی بانسری بجاتے ہوئے تصویر دکھائی گئی ہے۔ پوسٹر کے درمیان بڑے حروف میں ’27 میں کرشن آئیں گے‘ کا پیغام لکھا گیا ہے۔یہ ہورڈنگ سماج وادی پارٹی کے کارکن عبدالعظیم منصوری نے لگائی ہے۔ اس کے ذریعے 2027 کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ریاست میں سماج وادی پارٹی کی حکومت بننے جا رہی ہے اور اکھلیش یادو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ تاہم اس ہورڈنگ پر سماج وادی پارٹی کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کا دفتر بنا سیاسی سرگرمیوں کا مرکز
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پارٹی کو لے کر ان کے کارکن اس سے پہلے بھی اس طرح کے پوسٹر اور ہورڈنگ لگا چکے ہیں۔ لیکن اس بار یہ ہورڈنگ اس لیے بھی موضوعِ بحث بن گئی ہے کیونکہ گزشتہ دنوں مذہبی مقرر دھیرندر کرشن شاستری نے بھگوان شری کرشن کے حوالے سے مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔اس بیان پر اکھلیش یادو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دھیرندر شاستری پر پابندی لگانے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ یادو برادری بھگوان شری کرشن کو اپنا جدِ امجد مانتی ہے، اسی وجہ سے اس بیان پر برادری کی جانب سے بھی ناراضگی دیکھنے کو ملی تھی۔
پوسٹر کے ذریعے نئے سیاسی پیغام پر بحث تیز
لکھنؤ میں لگائے گئے اس ہورڈنگ کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے اور یہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ مذہبی پیغام کے ذریعے سیاسی معنی نکالنے کی کوشش نے اتر پردیش کے سیاسی مساوات اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش میں کچھ دن پہلے نامعلوم افراد نے مختلف شہروں میں سماج وادی پارٹی اور انڈیا اتحاد کے کئی رہنماؤں کے خلاف قابل اعتراض پوسٹر لگائے تھے۔ ان پوسٹروں پر سماج وادی پارٹی کے رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔اب اکھلیش یادو کو بھگوان شری کرشن سے جوڑتے ہوئے لگائے گئے اس نئے ہورڈنگ نے ریاست کی سیاست میں ایک نیا پیغام دے دیا ہے اور 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی سرگرمیوں کو مزید موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


